Tuesday, June 10, 2014

غزوات نبی


رسول اللہ ﷺ کئی سال تک بغیر جنگ وقتال کے اسلام کی طرف تبلیغ فرماتے رہے، مکہ میں عرب اور مدینہ میں یہودی آپ کو اور آپ کے صحابہ کو شدید تکلیفیں پہنچاتے رہے ۔ مگر چونکہ آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے تلوار اٹھانے کا حکم نہیں تھا، اسلئے آپ ان تکلیفوں کو برداشت کرتے اور دشمنوں کو ڈراتے رہے ، آپ اور آپ کے صحابہ جب مکہ میں تھے تو اکثر آپ کے صحابہ آپ کے پاس اس طرح آتے کہ کفار کے ہاتھوں پٹ کر اور زخم کھائے ہوئے ہوتے تو آپ ﷺ ان کو دیکھ کر فرماتے صبر کرو کیونکہ مجھے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیاگیا ہے۔ مکہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی وہ ایک چھوٹی سی جماعت تھے پھر جب ہجرت کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور قوت بن گئی اور وہ ایک طاقتور جماعت بن گئے نیز ساتھ ہی مسلمانوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت اپنے باپ دادا ، اپنی اولاد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ رچ بس گئی، اور مشرکین اپنے کفر اور مسلمانوں کو ستانے میں حد سے آگے بڑھ گئے تو اللہ تعالی نے ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں مشرکوں سے جنگ کرنے کی مسلمانوں کو اجازت عطا فرما دی۔ صرف ان کفار سے لڑنے کے لئے جو مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پہل کریں۔
آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ بہادرتھے!
صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم جب بھی کسی مشرک دستے سے دوچار ہوتے یا کوئی دستہ ہمارے مقابلے پر آجاتا تو سب سے پہلے ضرب لگانے والے آنحضرت ﷺ ہوتے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا مقصد صرف یہ تھا کہ زمین پر عادلانہ امن قائم ہو جب تک عدل نہ ہو اس وقت تک امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔

تاریخ ہند

تاریخ ہند
ہندستان کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت اس بات کی سمجھ ہونی چاہئے کہ بیرونی طاقتوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیں اقتصادی اور سیاسی سطح پر کس طرح کا نقصان پہنچایا تھا ۔
جاگیرداروں و زمینداروں کے دور اقتدارکے دوران کیا فرق یا تبدیلی نظر آئی تھی ۔
آریس آریس اور اسکی ذیلی شاخوں کا اکثریتی غلبہ پر مبنی جو سیاسی پروجکٹ وفلسفہ ہے ۔جس کی عکاسی ونمائندگی ان کے سیاسی ونگ کے ذریعہ کی جاتی رہی ہے ۔دراصل اس کی بنیاد ہمارے ماضی کے کچھ واقعات ہیں جنہیں انہوں نے نہ صرف فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اس کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے ۔
فرقہ واریت پر مبنی تاریخ صرف تاریخ کا مسخ کیا جانا یا توڑنا مروڑنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ وہ عمل ہے جس میں تاریخ کے مرکزی پہلو کی فرقہ وارانہ بنیاد پر تشریح کی جاتی ہے یعنی تاریخ کے اصل وصحیح تناظر اور صداقت سے انکار کیا جاتا ہے بلکہ اس کے کچھ چنندہ حصوں کو ہی موضوع سخن بنایا جاتا ہے ۔اس طرح کی کوشش کی عکاسی ہمیں ملک کی کئی ریاستوں کی نصابی کتابوں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔
اس طرح جدید تاریخ ہند میں ہمارے مطالعہ ،تشریح یا تدریس میں دو بڑے اثرات ہمیں دکھائی دیتے ہیں ۔جو 200برس کے برطانوی نو آبادیاتی نظام پر محیط ہیں ۔
ان میں سے پہلا دور نوآبادیاتی ہسٹو گرافی پر مبنی ہے ۔جبکہ دوسرے اثرات وہ ہیں جن کا تعلق فرقہ وارانہ تشریح سے ہے ۔پہلے کا تعلق ہمارے اس ورثہ سے ہے جس کے تحت ہم اپنی نصابی کتابوں ’’برطانوی راج ‘‘اور برطانوی راج کے قیام جیسے الفاظ کا استعمال کرتے رہے ہیں ،اور ان ابواب کو اپنی نصابی کتابوں میں شامل کرنے سے بھی گریز کرتے رہے ہیں ،جن کا تعلق برطانوی حکومت کی مزاحمت کے دور سے ہے ۔
ہم 19 ویں صدی کے دوسرے نصف حصہ کے اس دور کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح اس دوران فرقہ پرستی کا یہ سارا معملہ ابھر کر منظر عام پر آیا اور کس طرح اس میں تبدیلیاں آتی رہیں اگرچہ اس دور سے قبل بھی 1875 میں بمبئی میں پارسیوں اور مسلمانوں کے درمیان اور ہندوءں اور عیسائیوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشدگی کا ماحول پیدا ہوتا رہا تھا لیکن اس میں یاد رکھنے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کی کشیدگی کی وجہ سے کبھی فسادات نہیں ہوئے تھے ۔
وہ 19 ویں صدی کا دوسرا نصف حصہ ہی تھا جس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی نے سیاسی شکل اختیار کی تھی ۔1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بعد ہی پہلی بار فرقہ واریت کا کارڈ کھیلا گیا تھا ۔جب ہم تاریخی اعتبار سے مذہب کی تبدیلی کے ایشو پر نظر دوڑاتے ہیں تو اس میں سب سے اہم جو چیز ہمیں یاد رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلم آبادی کی اکثریت ہمیں ان ریاستوں میں نظر نہیں آتی جہاں کے فرمانروا یا حکمراں مسلماں تھے بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے کیا پتہ چلتا ہے ؟
کیرلا کے مالابار ساحلی علاقہ کی مثال کو ہی لے لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کئے جانے کیواقعات ٹیپو سلطان کے حملہ کے دوران نہیں ہوئے ۔بلکہ تبدیلیء مذہب کے واقعات سب سے زیادہ تعداد میں1843 تا 1890کے دوران ہی اس وقت ہیش آئے تھے جب 1843کے دوران اس علاقہ سے غلامی کا خاتمہ ہوا تھا اور جس کے نتیجہ میں ان دبی کچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ،جنہیں اونچی اور اعلی ذاتات کے ہندؤں نے غلام بنا رکھا تھا ،غلط یا صحیح یہ سوچ کر اسلام قبول کیا تھا کہ انہیں براری کا درجہ اور انصاف ملے گا ٹیپو سلطان اور شیواجی جیسے حکمرانوں کے دور حکومت کے بارے میں جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو یہاں بھی بد قسمتی سے ہمیں مذہبی تعصب ہی نظر آتا ہے
کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ تیپو سلطان کا ہی دور حکومت تھا جس کے دوران ایک کٹر ہندو مراٹھا سردار نے میسور پر کئی بار حملہ کیا تھا اور اپنے ایک حملہ کے دوران اس نے شرنگری مٹھ کو تباہ وبرباد کردیا تھا ۔اس مٹھ کی تعمیر نو اور تعمیر سے قبل بھومی پوجا کی ذمہ داری نبھانے والا کوئی اور نہیں خود ٹیپو سلطان ہی تھا ۔یہاں ہمیں خود سے سوال کرنا چاہئے کہ ای ’اچھے اور سیکولر ہندو سردار نے کیوں ایک مٹھ کو تاراج کردیا تھا اور کیوں ایک کٹر مسلمان کہے جانے والے حکمران نے اس کی دوبارہ تعمیر کروائی تھی ۔
تاریخ ہند
ہندستان کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت اس بات کی سمجھ ہونی چاہئے کہ بیرونی طاقتوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیں اقتصادی اور سیاسی سطح پر کس طرح کا نقصان پہنچایا تھا ۔
جاگیرداروں و زمینداروں کے دور اقتدارکے دوران کیا فرق یا تبدیلی نظر آئی تھی ۔
آریس آریس اور اسکی ذیلی شاخوں کا اکثریتی غلبہ پر مبنی جو سیاسی پروجکٹ وفلسفہ ہے ۔جس کی عکاسی ونمائندگی ان کے سیاسی ونگ کے ذریعہ کی جاتی رہی ہے ۔دراصل اس کی بنیاد ہمارے ماضی کے کچھ واقعات ہیں جنہیں انہوں نے نہ صرف فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اس کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے ۔
فرقہ واریت پر مبنی تاریخ صرف تاریخ کا مسخ کیا جانا یا توڑنا مروڑنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ وہ عمل ہے جس میں تاریخ کے مرکزی پہلو کی فرقہ وارانہ بنیاد پر تشریح کی جاتی ہے یعنی تاریخ کے اصل وصحیح تناظر اور صداقت سے انکار کیا جاتا ہے بلکہ اس کے کچھ چنندہ حصوں کو ہی موضوع سخن بنایا جاتا ہے ۔اس طرح کی کوشش کی عکاسی ہمیں ملک کی کئی ریاستوں کی نصابی کتابوں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔
اس طرح جدید تاریخ ہند میں ہمارے مطالعہ ،تشریح یا تدریس میں دو بڑے اثرات ہمیں دکھائی دیتے ہیں ۔جو 200برس کے برطانوی نو آبادیاتی نظام پر محیط ہیں ۔
ان میں سے پہلا دور نوآبادیاتی ہسٹو گرافی پر مبنی ہے ۔جبکہ دوسرے اثرات وہ ہیں جن کا تعلق فرقہ وارانہ تشریح سے ہے ۔پہلے کا تعلق ہمارے اس ورثہ سے ہے جس کے تحت ہم اپنی نصابی کتابوں ’’برطانوی راج ‘‘اور برطانوی راج کے قیام جیسے الفاظ کا استعمال کرتے رہے ہیں ،اور ان ابواب کو اپنی نصابی کتابوں میں شامل کرنے سے بھی گریز کرتے رہے ہیں ،جن کا تعلق برطانوی حکومت کی مزاحمت کے دور سے ہے ۔
ہم 19 ویں صدی کے دوسرے نصف حصہ کے اس دور کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح اس دوران فرقہ پرستی کا یہ سارا معملہ ابھر کر منظر عام پر آیا اور کس طرح اس میں تبدیلیاں آتی رہیں اگرچہ اس دور سے قبل بھی 1875 میں بمبئی میں پارسیوں اور مسلمانوں کے درمیان اور ہندوءں اور عیسائیوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشدگی کا ماحول پیدا ہوتا رہا تھا لیکن اس میں یاد رکھنے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کی کشیدگی کی وجہ سے کبھی فسادات نہیں ہوئے تھے ۔
وہ 19 ویں صدی کا دوسرا نصف حصہ ہی تھا جس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی نے سیاسی شکل اختیار کی تھی ۔1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بعد ہی پہلی بار فرقہ واریت کا کارڈ کھیلا گیا تھا ۔جب ہم تاریخی اعتبار سے مذہب کی تبدیلی کے ایشو پر نظر دوڑاتے ہیں تو اس میں سب سے اہم جو چیز ہمیں یاد رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلم آبادی کی اکثریت ہمیں ان ریاستوں میں نظر نہیں آتی جہاں کے فرمانروا یا حکمراں مسلماں تھے بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے کیا پتہ چلتا ہے ؟
کیرلا کے مالابار ساحلی علاقہ کی مثال کو ہی لے لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کئے جانے کیواقعات ٹیپو سلطان کے حملہ کے دوران نہیں ہوئے ۔بلکہ تبدیلیء مذہب کے واقعات سب سے زیادہ تعداد میں1843 تا 1890کے دوران ہی اس وقت ہیش آئے تھے جب 1843کے دوران اس علاقہ سے غلامی کا خاتمہ ہوا تھا اور جس کے نتیجہ میں ان دبی کچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ،جنہیں اونچی اور اعلی ذاتات کے ہندؤں نے غلام بنا رکھا تھا ،غلط یا صحیح یہ سوچ کر اسلام قبول کیا تھا کہ انہیں براری کا درجہ اور انصاف ملے گا ٹیپو سلطان اور شیواجی جیسے حکمرانوں کے دور حکومت کے بارے میں جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو یہاں بھی بد قسمتی سے ہمیں مذہبی تعصب ہی نظر آتا ہے
کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ تیپو سلطان کا ہی دور حکومت تھا جس کے دوران ایک کٹر ہندو مراٹھا سردار نے میسور پر کئی بار حملہ کیا تھا اور اپنے ایک حملہ کے دوران اس نے شرنگری مٹھ کو تباہ وبرباد کردیا تھا ۔اس مٹھ کی تعمیر نو اور تعمیر سے قبل بھومی پوجا کی ذمہ داری نبھانے والا کوئی اور نہیں خود ٹیپو سلطان ہی تھا ۔یہاں ہمیں خود سے سوال کرنا چاہئے کہ ای ’اچھے اور سیکولر ہندو سردار نے کیوں ایک مٹھ کو تاراج کردیا تھا اور کیوں ایک کٹر مسلمان کہے جانے والے حکمران نے اس کی دوبارہ تعمیر کروائی تھی ۔ 

اسلام اور سوشیل ورک



خطبہ جمعہ 
اسلام اور سوشیل ورک
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم 
فآت ذاالقربی حقہ والمسکین وابن السیل ۔ذلک خیر للذین یریدون وجہ اللہ ۔واولئک ہم المفلحون ۔ (الروم :۳۸)
ترجمہ :پس رشتہ داروں کوان کا حق دو ،مسکین اور مسافر کا بھی حق ادا کرویہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ کو دیکھنا چاہتے ہیں ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔
ان لوگوں کو مال دے کر یا ان کی خدمت کر کے تم ان پر احسان نہیں کرہے ہو یہ تو تم پر ان کا حق ہے جسے تمہیں ادا کرنا ہی ہے نہ کرو گے تو اللہ اس کے بارے میں تم سے سوال کرے گا ۔یہ اسلام کا سوشیل سرویس کا نظریہ ہے جو فرضیت کے درجے میں ہے مگر مسلمانوں نے اسے بھلادیا ہے جس کے نتیجہ میں امت مسلمہ کئی طرح کے مسائل میں گھر چکی ہے ۔اس کا بدلہ خود اللہ کو دیکھنا ہے خدمت سے خدا ملتا ہے ۔
سوشیل ورک اور خدمت کو ایک نفلی نیکی سمجھا جاتا ہے کہ کہ کرو تو ثواب نہ کرو تو کوئی گناہ نہیں ۔بات ایسی نہیں ہے اس کا درجہ فرض کا ہے قرآن کہتا ہے ۔
لیس البر ان تولواقبل المشرق والمغرب ولٰکن البر من امن باللہ والیوم الاٰخر والملائکۃ والکتاب والنبیین اسی تسلسل میں بغیر کسی تفریق کہ آگے فرما یا
واٰتی المال علی حبہ جو مال سے محبت کے باوجود 
ذوی القربی رشتہ داروں کو 
والیتٰمی یتیموں کو 
والمساکین مسکینوں کو 
وابن السبیل مسافروں کو 
والسائلین مانگنے والوں کو 
وفی الرقاب گردن چھڑانے کیلئے 
پھر عبادات کے سلسلہ کو بیان کررہاہے 
۔۲۔
واقام الصلوۃ واٰتی الزکوۃ والموفون بعھدھم اذا عاھدوا (البقرہ :۱۷۷) 
انہی باتوں کوسورہ بلد میں بیان فرمایا ۔انسان سے سوال کرتا ہے
ایحسب ان لن یقدرعلیہ احد کیا یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کسی کا قابو نہیں ہے ؟
یقول اھلکت مالا لبدا ،انسان کہتا ہے کہ میں تو بہت ڈھیر سارا مال خرچ کرڈالا ۔
اپنے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے پھر فخرکے طور پر لوگوں کے سامنے کہتا پھرتا ہے 
فلااقتحم العقبۃ اس سے نہ ہوسکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا (خدمت خلق بہت مشکل کام ہے )
وماادرٰک ما العقبۃ کیا سمجھا کہ گھاٹی کیا ہے؟
فک رقبۃ ( وہ گھاٹی اور مشکل کام )کسی کی گردن کو آزاد کرانا 
او اطعٰم فی یوم ذی مسغبۃ یا بھوک والے دن کھانا کھلانا 
یتیما ذامقربۃ کسی رشتہ دار یتیم کو 
او مسکینا ذامتربۃ یا مٹی پلید ہوچکے کسی مسکین کو(جو غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہوا ہے )
نبی کریم ﷺ منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے ہی یہ تمام سوشیل خدمات انجام دیا کرتے تھے ۔غار حرا سے پہلی وحی لیکر آپ ﷺ جب اپنے گھر آئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھ سے ا نزول وحی کے واقعہ کوبیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے تو حضرت خدیجہ کے الفاظ تھے ۔
کلاواللہ ما یخزیک ابد ا ہر گز نہیں ! اللہ کی قسم اللہ آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا 
انک لتصل الرحم آ پ تو صلہ رحمی کرتے ہیں 
وتحمل الکل ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں 
وتکسب المعد وم محتاجوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں 
وتقری الضیف مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں 
و تعین علی نوائب الحق ۔ مصیبت ذدوں کی مدد فرماتے ہیں(بخاری :۱/۳ کتاب بدء الوحی ،حدیث :۳)
اسلام نے سماج سیوا اور خدمت خلق کو دین میں بہت اہم مقام بخشا ہے ،انسانوں کی خدمت کو حقوق العباد قرار دے کر اسے فرض کے درجہ میں رکھا ہے ۔بیمار کی عیادت اور اس کے علاج معاجے کا انتں ام کرنا ،یتیموں کی خبر گیری اور نادار بچوں کی تعلیم تربیت کا نظم کرنا ،لوگوں کی مشکلات میں ان کا ساتھ دینا ،بے روزگاروں کیلئے روزگار مہیا کرانا ۔سماجی خدمت کے لئے آج اس کی مستقل تعلیم بھی دی جارہی ہے اسے حاصل کرنا بھی ہمارے بچوں کیلئے ضروری ہے ،تاکہ جدید طرز پر وہ اپنی قوم کی خدمت کرسکیں ۔جیسے دیگرا قوام کے بچے بچیاں کررہے ہیں 
سماجی خدمت کے کورسز:
سوشیل ورک Social Workآج ایک پرفیشن بن چکا ہے ۔ہمارے ملک میں اس وقت سوشیل ورک کے کورسز 60سے زیادہ یونیورسیٹیوں میں پڑھائے جارہے ہیں ۔جہاں گریجویشن اور پوسٹ گریجوشن تک سوشیل ورک کی تعلیم اور عملی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔
ایک طرف یہ ڈگری یافتہ سوشیل ورکرزہیں اور دوسری طرف مذہبی جذبہ کے تحت سرگرم رضاکار عیسائی مشنریوں اور سنگھ کی طرف سے سماج سیوا کا کام کرنے والے نوجوان اور ادارے ہیں ، سنگھ پریوار اور مشنری جذبے کے تحت ہر وقت خدمت انجام دینے کیلئے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں نوجواں آج ملک بھر میں خصوصا گاوءں دیہاتوں میں کام کررہے ہیں ۔
سوشیل ورک کے لئے پرفیشنل ٹریننگ زیادہ اہم نہیں ہے بلکہ ذہن میں اس طرح کی سوچ اور دل میں جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اگر انسان دوسرے انسانوں کی خدمت کیلئے تیار ہوجائے تو پھر اس کام کیلئے ضروری Skilsصلاحیت وقابلیت بہت جلد مہیا ہوجاتی ہے ۔
اگر ائمہ مساجد اپنی اپنی مسجد کے اطراف بسنے والے مسلمانوں کیلئے اپنے گاوءں اور محلے کی سطح پر NGO sبناکر سرکار میں رجسٹر کروائیں اور سوشیل ورک کا باقاعدہ نظام اپنی مسجد کی کمیٹی کے ماتحت انجام دیں تو مسلمانوں کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ہر سرکار کے پاس اپنے شہریوں کیلئے تعلیم کی صحت کی اور روزگار کی بہت سی اسکیمیں ہوتی ہیں انہیں اجتماعی طور پر لینے کی کوشش کی جائے تو اکثر کامیابی ملتی ہے ۔اس کیلئے صبر اور حکمت کے ساتھ لگے رہنا ضروری ہے ایک بار اگر اس کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے تو پھر لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے ۔
السعی منا والاتمام من اللہ
آل انڈیا امامس کونسل 

Monday, June 9, 2014

دعوه




خطبہ جمعہ


غیرمسلموں میں دعوت الی اللہ



تبارک الذ ی نز ل الفرقان علی عبد ہ لیکون للعلمین نذ یرا (الفرقان)
اللہ تعالی نے حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کی ہدایت کیلئے نبی بنا کر بھیجااور آپؑ پر نبوت کو ختم فرمادیا ۔ ختم نبوت صرف انبیاء کے سلسہ کو ختم کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اب یہ کام اس امت کو انجام دینا ہے ۔ آپ ؑ کے بعد نبوت کی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کاآپ ؑ کی امت کو حکم دیا اسی لئے تم خیر امت ہو ۔کنتم خیر امۃ اخرجت للناس 
اگر مسلمان اس فرض کی ادئیگی میں کوتاہی کریں گے تو وہ اس کوتاہی کا لازمی نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰان کو خیر امت کے اس منصب سے محروم کرکے دوسری قوموں کو اس فرض کی ادائیگی کیلئے کھڑاکردے ۔قیامت کے دن تمام غیر مسلم مسلمانوں کو اپنے بے ایمان ہونے ذمہ دار قراردیں گے اس دن کیا ہم اپنے کوتاہی کا اللہ کے سامنے کوئی عذر پیش کرسکیں گے ۔غیر مسلموں کودعوت ایمان ایک فریضہء رسالت ہے 
انسانوں کی موت کے بعد آخرت میں جنت یا دوزخ کا فیصلہ ایمان کی بنیاد پر ہی ہوگا ۔یہ کوئی معمولی سی بات نہیں ہے انتہائی اہم اور سنگین بات ہے،آخرت کوئی چھوٹی مدت نہیں ہے اور نہ وہاں سے کوئی واپس آسکتا ہے ۔
آج مسلمان اپنے نبی کی سنتوں کی ادائیگی کا بہت اہتمام کرتے آپ ﷺ کی سب سے بڑی سنت جس پر آپ ؑ نے پوری زندگی اہتمام کیا وہ دعوت الی الایمان ہے ہمیشہ آپ ؑ کو اسی کی فکر رہتی تھی مسلمانوں کا وہ طبقہ جسے سنتوں کی بڑی فکر ہے انہیں لوگ بھی غیر مسلموں کو دعوتعملا ترک کردیا ہے بلکہ ان کو معلوم بھی نہیں ہے مسلمانوں کے سامنے کوئی بھی دینی پروگرام رکھے جا ئیں انہیں بات سمجھ میں آجاتی ہے مگر غیر مسلموں میں دعوت کی بات ان کی سمجھ میں ہی نہیں آتی اگرچہ اس کے حق میں کتنے ہی دلائل پیش کردئے جائیں ۔
مسلمان دعوت سے پہلے انہیں بددعا دیتے ہیں : 
مدعو قوم پر اتمام حجت کے بغیر جو بددعا کی جائے گی وہ کبھی قبول ہونے والی نہیں ہے ،خواہ برسوں تک یہ بددعائیں کی جاتی رہیں ۔ہرحادہ کے بعد ہم ان کی ہلاکت کی دعائیں برسوں سے کرتے آرہے ہیں ایک بھی قبول ہے کے نہیں دیا ،بلکہ الٹا مسلمانوں پر ہی مصیبت اور ذلت طاری ہورہی ہے ۔
آج مسلمانوں کے اندر سے سب سے بڑی چیز جو کھو گئی وہ دعوتی ذہن ہے ،مسلمانوں میں آج ہر طرح کے نیکی کے کام نظر آتے ہیں مگر غیر مسلموں کو دعوت کی سرگرمیاں کم ہی نظر آتی ہیں ،عیسائیوں کے تبلیغی ادارے ،دوا خانے اور خدمت خلق کی شکل میں اتنے منظم اور وسیع پیمانے پر دعوت کا کام کرہے ہیں جس کی کوئی دوسری مثال ملنی مشکل ہے افریقہ کے وحشی سے وحشی قبائل کیوں نہ ہوں ان تک بھی یہ لوگ پہنچ جاتے ہیں ۔
صحابہ کے بعد آہستہ آہستہ یہ کام کم ہوتا گیا اور آج تو تقریبا نہ کے برابر ہی کہا جاسکتا ہے ،صحابہ اور تابعین ہمیزہ اساسات دین پر متوجہ رہتے تھے جب دیگر قومیں اسلام داخل ہوئیں تو اساسات دین کے بجائے جزئیات دین کو طے کرنے الجھ گئے ،فقہ میں جزئیاتی امور پربحثیں پیدا ہوگئیں ،خود قرآن وحدیث بھی انہیں اختلافی بحثوں کی روشنی میں پڑھائے جانے لگے ۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہنکلا کہ اسلامی درس گاہوں اور ان سے نکلنے والوں کی توجہ دعوت سے ہٹ گئی ۔
مسلمان غیر مسلموں کی زبان سیکھنے سے دلچسپی نہیں رکھتے : 
مسلمانوں کے پاس اسلامی کتابوں کا ذخیرہ یاتو عربی میں یا فارسی اور اردو میں ہے اس سے ہٹ کر دوسر ی زبانوں میں کم اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو طبقہ مذہبی خدمت کرتا ہے وہ اردو عربی کے علاوہ دوسر ی زبانوں سے ناواقف ہے ،تکنیکی لحاظ سے ہم کچھ تیاری کئے بغیرکہہ دیتے ہیں کہ دعوت الی اللہ میں رکاوٹ ہمارے اعمال ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنی مقصدیت ہی کھودی ہے اور جدید دنیا میں ایک بے مقصد گروہ بن کر رہ گئے ہیں ،وقت کا اہم ترین تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک بامقصد گروہ بنایا جائے ،یہ مقصد صرف دعوت کے راستے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے 
مسلمانوں سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ وہ دعوت وتبلیغ کا کام غیر مسلموں میں کیوں نہیں کرتے ؟تو تقریبا ہر جگہ یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم خود اسلام پر عمل نہیں کررہے ہیں ۔ہمارے پاس اعمال صالحہ کی کمی ہے اور ہمارے پاس ایسے اعمال نہیں ہیں جنہیں دیکھ کر غیر مسلم متاثر ہوسکیں ۔یہ باتیں بظاہر درست معلوم ہوتی ہیں لیکن قرآن و حدیث میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ جب تک تم پورے ولی بن جاؤ تب ہی دعوت وتبلیغ کا کام کرنا ۔
ہمارے ایسے بہت سے مسلمان بھائی ہیں جو گناہ کبیرہ ،سود ،شراب ،زنا،رشوت ،فسق وفجور سے بچتے ہوئے نماز اور روزہ کے پابند ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو غیر مسلموں کو دعوت دینے کے اہل نہیں سمجھتے ۔ایسے لوگ پمیشہ مسلمانوں کی بد اعمالیوں اور خرابیوں کی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دعوت الی اللہ میں سب بڑی رکاوٹ ہماری قوم کیاعمال کی خرابی ہے وہ اسی انداز سے قوم کی خرابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے دعوت الی اللہ جیسی عظیم سعادت ۔۔۔سے اپنے آپ کو محروم رکھتے ہیں ۔ 
یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ لوگوں کو ہم اپنے گھر کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ دعوت ایمان دے رہے ہیں اور دعوت ایمان ایسی چیز ہے جس کو ہرانسان اپنے ضمیر کی آواز سمجھتا ہے اور حق وباطل میں فرق محسوس کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔
ایک میڈیکل دوا کمپنی کا نمائندہ اپنی ذات کا نہیں بلکہ وہ جس کمپنی کا ملازم ہوتا ہے اسی کی دوا کا تعارف کراتا ہے۔ 

استقبال رمضان

۔۱۔
خطبہ جمعہ جولائی۲۰۱۴
آل انڈیا امامس کونسل 
استقبال رمضان
دورجدید نے انسان کی آسائش اور آسودگی کے لئے بہت سے مادی وسائل مہیا کردئے ہیں جسم کی آسودگی کا انتظام کیامگر روح کی آسودگی اور اس کے چین کیلئے کچھ نہیں کیا ۔انسان چیزوں کا مالک بن گیا لیکن اس کے ہاتھ سے خود اپنے نفس کا لگام چھوٹ گیا ،جس کی بنا پر اس کی خواہشات نے اس پر غلبہ پالیا ،اس کا ارادہ کمزور اور دل سخت ہوگیا ،اس کے اخلاق بدل گئے ،در حقیقت وہ اپنے آپ کو ہلاکت وبربادی کی راہوں پر گامزن کرکے خود اپنا دشمن بن گیا ۔
اللہ تعالی نفس انسانی کی تمام خصوصیات سے واقف ہے لہذا اس نے عبادات کا ایسا نظام مرتب کیا ہے جس سے انسانوں کو چین سکون میسر ہوتا ہے،عام طور پر مسلمان عبادات بہت اہتمام سے ادا کرتے ہیں مگر اس کا اثر ان کی زندگی میں نظر نہیں آتا کیونکہ اس سے مطلوب اثرات سے وہ واقف نہیں ہوتے مثلا وہ اول وقت میں نماز کی ادائیگی کیلئے اہتمام سے مسجد میں آتے ہیں ، مگر اس قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرتے ہیں جو واجب الاداء ہے۔لوگ باربار حج کرتے ہیں مگرقریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ صلہ رحمی اورحسن سلوک نہیں کرتے ۔
عبادت،وضو ،نماز روزہ ،حج اور زکوۃ کو کہا جاتا ہے مگریہ عبادات ایک مسلمان کو معاشرتی درد مندی اورانسانی خدمت تک لیجانا چاہتی ہے عبادت ان تمام ظاہری وباطنی اقوال واعمال کا جامع نام ہے جنہیں اللہ تعالی پسند کرتا ہے جو زندگی کے مظاہر اور اس کی روح وحقیقت دونوں کو منظم و مزین کرتے ہیں ۔
آئیے ہم آمد رمضان سے پہلے روزہ اور رمضان کی حکمتوں پر ایک نظر ڈالیں تا کہ ہم روزوں کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کرسکیں جو اللہ تعالی ہمیں روزوں کے ذریعہ دینا چاہتا ہے ۔
روزہ انسان کو اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کی ٹریننگ دیتا ہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے ،صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے ،پینے ،جماع کرنے سے نیت کے ساتھ رکے رہنے کا نام روزہ ہے،روزہ کا مقصد نفس کو شہوتوں سے روکنا ہے مرغوبات ومالوفات سے چھڑانا ہے اور انسان کی شہوانی قوت کے اندر اعتدال اور توازن پیدا کرنا ہے نیز نفس انسانی کے اندر ان امور کو قبول کرلینے کی صلاحیت پیدا ہوجائے جو اسے پاک وصاف کردینے والے ہیں ۔
روزے میں بھوک اور پیاس ان فاقہ مستوں کی تکلیف کا احسا س کراتی ہے ان کا کیا حال ہے جو ہمیشہ بھوک اور پیاس کی جلتی ریت پر تپتے رہتے ہیں ۔روزہ انسان کو دوسرے انسانوں کی تکلیف دور کرنے کی مائل کرتا ہے اسی کئے حدیث پاک میں فرمایا ۔
۔۲۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس نے اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو( اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کیلئے)افطار کرایا تو اس کیلئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہدار کے برابر ثواب دیا جائے گا ،بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے ،صحابہ نے دریافت کیا :یا رسول اللہ !ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان مہیا نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گاجو ایک کھجور پر یاپانی کے ایک گھونٹ پر یا دودھ کی تھوڑی سی لسی پر کسی کا روزہ افطار کرادے ۔
اس معمولی سے کام پر یہ عظیم اجروثواب مسلمان کے اندر دوسرے کو کھلانے کی عادت ڈالنے کیلئے ہے آدمی اپنا تھوڑا مال خرچ کرے اور سخاوت کا مزاج بنے ۔ 
ماکولات ومشروبات کی گذرگاہوں کے تنگ ہوجانے سے بندہ کی شیطانی گذرگاہیں تنگ ہوجاتی ہیں ۔
انسان کے ہر عضو اورہر جوڑ کے اندر سرکشی کا مادہ موجود ہے بھوک اور پیاس اسے ساکت کردیتی ہے اور اسے ایک لگام لگادیتی ہے رمضان کے بعد اگر آدمی کا نفس قابو میں نہ رہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ روزہ کا مقصود حاصل نہیں ہوا ۔ 
روزہ انسان کو عادت کی قید سے آزاد کرتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عادت چھوٹ نہیں سکتی ہم یہ عادت چھوڑ نہیں سکتے،مگر روزہ دن بھر انسان کو روکے رکھتا ہے اس کا مطلب ہے کہ آدمی ارادہ کرے تو کوئی بھی عادت چھوڑسکتا ہے ۔ 
روزہ اگر اپنے ارکان وآداب کے ساتھ رکھا جائے تووہ آدمی میں تقوی پیدا کرتا ہے 
کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون 
اور تقوی قلبی خوشی ومسرت کی بنیاد ہے تقوی سے خوف وغم دور ہوتا ہے،خوف و غم ہی قلبی اضطراب وپریشانی کی بنیاد ہے 
فمن اتقی واصلح فلا خوف علیھم ولاہم یحزنون
تقوی سے مشکل حالات میں چھٹکارے کی شکل نکل آتی ہے اور ایسی جگہ سے روزی ملتی ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا 
ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب 
جو مسلمان اللہ سے محبت کرتا ہے وہ پابندی سے روزہ رکھتا ہے اور ماہ رمضان کا انتظار کرتا ہے ۔تاکہ اپنے نفس کو گناہوں سے پوری طرح دھو سکے ،روزہ دل کے زنگ کو دور کرتا ہے۔گناہوں سے معافی والی حدیث میں ایک بات کہی گئی ایمانا واحتسابا یہ احتساب ہوگا تو زندگی میں روزہ کا اثر نظر آئے گا احتساب کہتے ہیں سوچ اور امید کو،اب حدیث کو پڑھیں ۔
من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (بخاری)
جو شخص ایمان کے ساتھ اور اجر کی کی امید سے رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردئے جائیں گے ۔
رمضان میں اگر مسلمان اللہ تعالی کیلئے اپنی خواہش چھوڑدینے کی وجہ سے اپنے اندر روحانی نشاط محسوس کرتا ہے تو اس کو برقرار رکھنے کیلئے 
۔۳۔
ہر مہینے میں تین روزہ رکھنے کی ترغیب دی تاکہ اللہ سے تمہارا تعلق باندھا رہے ۔
روزہ دار کیلئے روزے میں ایک انعام یہ ہے کہ اس کی افطار کے وقت کی دعا قبول کی جاتی ہے 
ان للصائم عند فطرہ دعوۃ لا ترد (ابن ماجہ) 
اللہ سے اس تعلق کو اور بڑھانے کیلئے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا حکم دیا،اعتکاف میں دن رات قیام رکوع وسجود کے نتیجہ میں قلب کو طمانینت اور جسم کو پاکیزگی ملتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں ۔جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ ﷺ کمر کس لیتے تھے ،شب بیداری فرماتے ،اور اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے ،
اعتکاف نہ رہبانیت ہے نہ ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنا ہے ،بلکہ وہ زندگی کے سفر میں ایک مختصر سا وقفہ ہے جس میں انسان گہری نظر ڈال کر یہ جائزہ لیتا ہے کہ وہ اس سفر میں کتنا راستہ طے کرچکا ہے اورکتنا باقی ہے اور یکسوئی کے ساتھ خلوت میں عبادت کرنے والا اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے کہ اللہ تعالی کے جناب میں اس سے کیاکیا کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں اور اس کے تدارک کی کیا صورت ہے ۔
یہاں تک کہ جب عید کا دن آتا ہے تو وہ اپنے رب سے اپنا انعام وصول کرنے کیلئے عید گاہ کا رخ کرتا ہے جہاں فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں ،وہ غریبوں سے ملتا ہے ان پر احسان کرتا ہے صدقہ فطر ادا کرتا ہے آج کے دن غریب سے غریب کے گھر بھی اچھا کھانا پکنا چاہئے آج کا میزبان اللہ ہے سب اس کے مہمان ہیں آج روزہ رکھنا گناہ ہے آج خوشی منانے کا دن ہے غلطی کرنے والوں کو معاف کرنے کا دن ہے معذرت کرنے والوں کا عذر قبول کرنے کا دن ہے اس طرح روح اپنی تازگی وتوانائی اور طہارت پر قائم ہوجاتی ہے