رسول اللہ ﷺ کئی سال تک بغیر جنگ وقتال کے اسلام کی طرف تبلیغ فرماتے رہے، مکہ میں عرب اور مدینہ میں یہودی آپ کو اور آپ کے صحابہ کو شدید تکلیفیں پہنچاتے رہے ۔ مگر چونکہ آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے تلوار اٹھانے کا حکم نہیں تھا، اسلئے آپ ان تکلیفوں کو برداشت کرتے اور دشمنوں کو ڈراتے رہے ، آپ اور آپ کے صحابہ جب مکہ میں تھے تو اکثر آپ کے صحابہ آپ کے پاس اس طرح آتے کہ کفار کے ہاتھوں پٹ کر اور زخم کھائے ہوئے ہوتے تو آپ ﷺ ان کو دیکھ کر فرماتے صبر کرو کیونکہ مجھے جنگ کرنے کا حکم نہیں دیاگیا ہے۔ مکہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی وہ ایک چھوٹی سی جماعت تھے پھر جب ہجرت کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور قوت بن گئی اور وہ ایک طاقتور جماعت بن گئے نیز ساتھ ہی مسلمانوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی محبت اپنے باپ دادا ، اپنی اولاد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ رچ بس گئی، اور مشرکین اپنے کفر اور مسلمانوں کو ستانے میں حد سے آگے بڑھ گئے تو اللہ تعالی نے ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں مشرکوں سے جنگ کرنے کی مسلمانوں کو اجازت عطا فرما دی۔ صرف ان کفار سے لڑنے کے لئے جو مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پہل کریں۔
آنحضرت ﷺ سب سے زیادہ بہادرتھے!
صحابہ فرماتے ہیں کہ ہم جب بھی کسی مشرک دستے سے دوچار ہوتے یا کوئی دستہ ہمارے مقابلے پر آجاتا تو سب سے پہلے ضرب لگانے والے آنحضرت ﷺ ہوتے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا مقصد صرف یہ تھا کہ زمین پر عادلانہ امن قائم ہو جب تک عدل نہ ہو اس وقت تک امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔
غزوہ وہ جنگ جس میں آپ خود شریک ہوئے، حضور کے ایسے غزوات 27ہیں جن کے نام ہیں۔
غزوۂ بواط، غزوۂ عشیرہ، غزوۂ سفوان، غزوۂ بدرکبریٰ، غزوۂ بنو سلیم ، غزوۂ بنی قینقاع، غزوۂ سویق، غزوۂ قریرۃ الکدر، غزوۂ غطفان، غزوۂ نجران، غزوۂ احد، غزوۂ حمراء الاسد، غزوۂ بنو نضیر، غزوۂ ذات الرقاع، غزوۂ بدرالآخر، غزوۂ دومۃ الجندل، غزوۂ بنی المصطلق، غزوۂ خندق، غزوۂ بنی قریضہ، غزوۂ بنی لحیان، غزوۂ حدیبیہ، غزوۂ ذی قرداس، غزوۂ حنین، غزوۂ وادی القرای، غزوۂ عمرۃ القضاء، غزوۂ فتح مکہ، غزوۂ حنین وطائف اور غزوۂ تبوک۔
اوروہ غزوات جن میں جنگ کی نوبت آئی آٹھ 8ہیں:
(۱) بدر (۲) احد (۳)بنی المصطلق (۴)خندق (۵)بنی قریظہ (۶)خیبر (۷)فتح مکہ (۸)حنین
حضرت محمد ﷺ اپنی امت کیلئے ایک محکم نظام حیات لائے، دفاعِ ملک وملت سے اہم ترکونسامسئلہ ہوسکتاہے؟ اجتماعی زندگی کے اس اہم مسئلہ سے متعلق حضور کا ہرعمل حکم کادرجہ رکھتاہے، جب دشمن میدان جنگ کا رخ کرتاہے توآزاد قوم اپنے ہاتھوں کو روک کر نہیں بیٹھتی، اللہ تعالی کا حکم ہے کہ اگر دشمن کے حملہ کا جواب میدان میں اترکرنہ دوگے توتمہیں سخت عذاب میں ڈالاجائے گااورتمہاراآزاد مقام کسی اورکودے دیاجائے گا یعنی تم غلام بنادئے جاؤ گے، چنانچہ حضور ﷺ نے حملہ کا جواب حملہ سے دیا۔
الاتنفروایعذبکم عذاباالیما ویستبدل قوماً غیرکم (توبہ:39)
ترجمہ: اگر نہ نکلوگے تم تو سزادے گا تم کو اللہ، درد ناک سزا ، اور لے آئے گا تمہاری جگہ دوسری قوم کو اور نہ بگاڑسکو گے تم اس کا کچھ بھی۔
غزوات کی شروعات دوچیزوں سے ہوئی :
(۱)جاسوسی کا انتظام (۲)اطراف مدینہ کے غیرمسلم قبائل سے معاہدے ۔
غزوات نبوی سے یہ بات اس قدرنمایاں طورپر نظرآتی ہے کہ آپ نے اپنی بے حد مصروفیات کے باوجود جاسوسی سے کبھی غفلت نہیں برتی ،سیرت نگاروں نے اس پہلو پر بہت کم توجہ دی ہے، حضور کی فوج کی تعداد اورمادی وسائل دشمن سے نسبتاً کم تھے اسلئے حضور نے اس محکمہ کو خاص اپنی تحویل میں رکھا اور اس پر انتہائی توجہ دی ،شاید ہی کوئی موقعہ ہوکہ اہل مکہ یاکسی دوسرے قبیلہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے پیش قدمی کی ہو اور اس کی اطلاع پہلے ہی حضور تک نہ پہنچ گئی ہو،مدینہ کے قیام کے نوسالہ عرصہ میں صرف دومرتبہ دشمن نے اطراف مدینہ کے باغات اورجانوروں کو نقصان پہنچایااوربھاگ گئے ،اکثرایساہوتا کہ دشمن راستہ میں ہوتااور حضور دوران راہ ہی وہاں پہنچ کر مدینہ پر ان کے حملہ کے منصوبہ کو تہس نہس کردیتے۔
رسول اللہ ﷺ کے غزوات ہی سیرت نبوی پر مکمل روشنی ڈالنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں ، حضور ﷺ نے نو سال کے عرصہ میں ستائیس غزوات کے دوران کم و بیش سات سو اکتیس دن مدینہ سے باہر گذارے ، یہ عرصہ دور مدینہ کا پانچواں حصہ بنتاہے ۔
ان غزوات کی تیاری پر کتنا وقت صرف ہوا ؟ اس کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے ، ان غزوات کے علاوہ پچاس سے زائد سرایا مختلف مقامات کی طرف روانہ فرمائے ، سرایا کے دوران صحابہ کا جو وقت صرف ہوا اسے کسی کتاب میں نہیں بتایا گیا ہے ، ایک ایک مہینہ کے عرصہ کے اندر بعض مرتبہ کئی کئی معرکے پیش آئے۔
*ان لشکروں کے لئے سازو سامان کی فراہمی
*مہم کے دوران مجاہدین کی خوراک کا انتظام
* مہم کی روانگی سے قبل کمانڈر کا انتخاب، اسے ضروری احکام وہدایات دینا
* جن قبائل کے علاقوں سے گذر کر اس مہم کو جاناہو تا ان کے حالات اور دیگر جنگی معلومات سے کمانڈر کو مطلع کرنا
* مہم کے جانے کے بعد ان کے متعلق معلومات حاصل کر تے رہنا
* پھر مہم کی واپسی پر پوری تفصیل حاصل کر کے آئندہ کا لائحۂ عمل مرتب کرنا
*یہ سب باتیں کتنی اہم ہیں یہ ہمیں حضور کے غزوات ہی سے معلوم ہو سکتی ہیں ۔
* غزوات نبوی کے ذریعہ ان راستوں کی جغرافیائی مشکلات ، موسم کے اعتبار سے کیا کیا تکلیفیں پیش آسکتی ہیں
* اس دور کے وسائل حمل و نقل کے لئے آپ نے کیا کیا، یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے ۔
----
حضور ﷺ کے لائے ہوئے پیغام ربانی میں جہاد انفرادی اور اجتماعی فریضہ ہے ، حضور نے اسکی ادائیگی کی غرض سے تمام ابتدائی ذمہ داریاں بطریق احسن انجام دیں۔
حضور کے غزوات کا مقصد انسانیت کو بے شمار زنجیروں سے نجات دلانا اور انسانی معاشرہ میں عدل و انصاف قائم کر نا ، امیر وغریبِ ، حاکم و محکوم ، سیاہ و سفید ، بالا دست اور زیر دست سب کے لئے ایک قانون قائم کر نا تھا،اسکے لئے آپ نے صحابہ کے اندر انضباط(ڈسپلن) پیدا کیا ،جس کے نتیجے میں مسلمان سپاہی اس ثابت قدمی سے لڑے جیسے کوئی مضبوط دیوار ہو ، ایک فرد بھی اپنے مقام سے نہیں ہلتا تھا ۔حضور ﷺ کے غزوات کے میدان پورے جزیرۃ العرب کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے تھے ، ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرنا انتہائی مشکل تھا ۔
حضور ﷺنے جو معاہدے کئے ان کی وجہ سے اہل مکہ کا اپنا تجارتی سفر خطرے میں پڑتانظرآرہاتھااور ان کے پایہ کی کوئی دوسری طاقت جزیرۃ العرب میں موجود نہیں تھی ان کے تجارتی راستہ پر مسلمانوں کے حلیفوں کا وجو دصرف خطرناک ہی نہیں تھا بلکہ ان کی عزت پر دھبہ کا باعث بھی تھا یہ داغ اسی وقت دھل سکتاتھا کہ مکی فوج اس علاقہ سے ہوتی ہوئی مدینہ کے خلاف حملہ کرے اورمدینہ کو شکست دے کر اس شاہ راہ پرپھر سے اپنا تسلط ثابت کرے ۔
کفارمکہ کی طرف سے مدینہ پر پہلاحملہ
کفارمکہ سب سے پہلے عکرمہ ابن ابوجہل کو تین سو سوار دیکر مدینہ کے خلاف رونہ کیا حضور نے عبیدہ ابن الحارث کو ساٹھ مہاجرین کی کمان دے کر مکی لشکر کو راستہ ہی میں روکنے کیلئے روانہ فرمایادونوں لشکروں کا آمنا سامناقبیلۂ بنوضمرہ کے علاقہ میں ہوا۔ بنو ضمرہ سے حضور پہلے ہی معاہدہ کرچکے تھے اس معاہدہ کا فائدہ مسلمانوں کو ہوا کہ بنو ضمرہ کفار کے حملہ میں شامل نہیں ہوئے اور عین مقابلہ کے وقت کفارکے لشکرکے دومعززاور بارسوخ افراد مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوگئے ۔مقدا بن امر البحرمی جس کے حلیفانہ تعلقات بنو زہرہ کے ساتھ تھے ۔
عتبہ ابن غزوان جس کے حلیفانہ تعلقات بنو نوفل کے ساتھ تھے دونوں نہایت بااثر اور بارسوخ افراد تھے ان کے جانے سے کفارکے لشکر میں فطری طور پر خوف وہراس کی لہر دوڑگئی ۔خطرہ تھا کہ دوطاقتور قبلیوں کے حلیف افراد کے مکی لشکر سے نکل جانے کے بعد کہیں اور لوگ بھی اسلامی لشکر میں شامل نہ ہوجائیں۔عکرمہ ابن ابوجہل دلیر ضرور تھا مگر سمجھ دار بھی تھا اس نے فورا اپنے لشکر کو واپسی کا حکم دے دیا۔پہلے ہی سعد ابن ابی وقاص تیر اندازی کرچکے تھے یہ اسلام کا پہلا تیر تھا جوکفار پر چلایاگیا۔
مسلمانوں کے لشکر کی ثابت قدمی اورکفارمکہ کے لشکرسے دوبااثرسرداروں کا مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوجانا اور عکرمہ کا ناکام واپس آنااہل مکہ کے غم اور غصہ کو مزید تیز کردیاوہ ناکامی کی ذلت کو برداشت نہیں کرسکتے تھے ۔
مدینہ پر کفارمکہ کا دوسرا حملہ
کفارمکہ نے دوسرالشکر تیار کیا اور اپنے تجربہ کا سپہ سالار ابوجہل کی کمان میں مدینہ کے خلاف روانہ کیا اس لشکر کی تعداد بھی تین سو تھی۔ حضور کے جاسوسوں نے بروقت اطلاع پہنچادی۔ حضور نے اس مرتبہ ضمرہؓ بن عبد المطلب کو صرف تیس سواروں کا دستہ دے کر روانہ فرمایادونوں لشکر صیف البحرکے قریب آمنے سامنے ہوئے اس بارپھر لڑائی نہیں ہوئی۔
مجدی ابن عمروالجہینی کے ساتھ حضور نے غیرجانب دار رہنے کا معاہدہ کیاتھا وہ موقعہ پر پہنچ گیا اور اس نے دونوں لشکروں کو لڑائی سے باز رکھا دونوں لشکر واپس اپنے اپنے مقام کو لوٹ گئے۔ حضور ﷺنے اہل مکہ کے دو وار خالی کردئے۔
اہل مکہ کا تجارتی راستہ
اہل مکہ کے تجارتی سفر کاراستہ جہینی قبیلہ کے علاقہ سے ہو کر گذرتاتھا،اس کے سردار کی درخواست رد نہیں کی جاسکتی تھی ،اگروہ ناراض ہوجاتا توکفار کے تجارتی قافلوں کیلئے ملک شام کا سفر ناممکن بن جاتا۔کفارمکہ کو طاقتور ہوتے ہوئے حضور کے معاہدہ نے کمزور بناڈالاتھا یہی حضور کی عظیم پلاننگ تھی۔
مدینہ پر کفارمکہ کا تیسراحملہ
اسکے بعد جلد ہی اہل مکہ نے ایک بار پھر مدینہ پر حملہ کیلئے امیہ بن خلف الجہینی کو ایک سو سواروں کے ساتھ روانہ کیا جس نے ساحلی علاقہ کے چھوٹے قبائل پر حملہ کرکے ان کے ایک ہزار اونٹ چھین لئے اوریوں گذشتہ دوموقعوں پر جوخفت اٹھانی پڑی تھی اس کے ازالہ کی کوشش کی۔ اس موقعہ پر حضور ﷺ خود امیہ بن خلف کو اسکی زیادتی سے باز رکھنے کیلئے اورجن قبائل نے مدینہ کے ساتھ معاہدے کئے تھے ان کی مدد کیلئے ساٹھ مہاجرین کو اپنے ساتھ لے کرنکلے اس سفر کو ’’غزوۂ بواط ‘‘کہاجاتاہے اس سفر میں بھی لڑائی نہیں ہوئی ۔ غزوۂ بواط سے واپسی کے بعد صرف چند دن مدینہ میں آپ کا قیام رہا پھر’’ غزوۂ عشیرہ‘‘کیلئے اپنے ساتھ ساٹھ مہاجروں کو لیکر نکلے اس غزوہ میں حضور نے جوراستہ اختیار فرمایاوہ بہت کم استعمال ہواکرتاتھا یہ مقام ینبوع کی وادی میں ساحل سمندر پر واقع ہے یہاں پر آپ ایک مہینہ ٹھرے رہے اوربنومدلج کے قبیلہ کے ساتھ معاہدہ کیا ۔یہ قبیلہ بنوضمرہ کا حلیف قبیلہ تھا ۔ قبائل کے ساتھ مدینہ کے بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کو اہل مکہ ہرگز برداشت نہیں کرسکتے تھے اس مرتبہ انہوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ جس طرح بھی ممکن ہو مدینہ پر تیز رفتار چھاپہ مار قسم کا حملہ کیاجائے اوراس طرح اپنی برتری کا ثبوت اطراف کے قبائل کودیاجائے ۔
مدینہ پر کفارمکہ کا چوتھا حملہ
اس کام کیلئے کرزابن جابرالفہری کو چھوٹاسہ دستہ دیاگیا وہ غیرمعروف راستوں سے ہوتاہوا رات کے وقت مدینہ کی چراگاہوں تک پہنچا اورمدینہ کے کچھ اونٹ ہانک کرلے گیا۔ بھگا کرکچھ جانور لے جانے کی وجہ سے اہل مکہ یہ توکہہ سکتے تھے کہ انہوں نے عرب کے رواج کے مطابق کامیابی حاصل کرلی مگر جس جنگ کا انہوں نے اعلان کیاتھا اس میں ایک چھاپہ مارنے سے کسی طرح بھی کامیابی نہیں ہوسکتی تھی ۔جیسے ہی اس چھاپہ کی اطلاع ملی آپ نے فورا ایک لشکر کو ترتیب دے کر کرز کا پیچھاکیایہ لشکر بھی مہاجرین کا تھا آپ صفوان نامی وادی تک تشریف لے گئے ۔ مگر کرز جس طرح غیر معروف راستوں سے آیاتھا اسی طرح غیر معروف راستوں سے ہوتاہوا مکہ واپس چلاگیااہل مکہ نے
---
مدینہ کے خلاف کوششیں جاری رکھیں۔
مدینہ پر کفارمکہ کا پانچواں حملہ
کرزکے چھاپہ کے بعد مکہ نے ایک اور دستہ مدینہ کے خلاف روانہ کیا اس کے مقابلہ کے لئے حضور نے سعدؓ ابن ابی وقاص کو آٹھ مہاجروں کے ساتھ روانہ فرمائے۔اگرچہ کہ اہل مکہ نے کامیاب چھاپہ مار کر ایک طرح سے جنگی برتری حاصل کرلی تھی اورمکہ کی جانب سے ایک بڑی تیاری کے ساتھ دوبارہ مدینہ پر حملہ کی خبریں آرہی تھیں۔ اہل مکہ کی تجارت ملک شام اور یمن سے ہوتی تھی۔شام اوریمن کے قافلوں کی واپسی کی تاریخوں سے معلوم ہوسکتاتھا کہ اہل مکہ مدینہ پر کب حملہ کریں گے یمن کی خبریں لانے کیلئے حضور نے عبداللہؓ ابن جحش کو آٹھ مہاجرین کو ایک بند لفافے میں احکامات دے روانہ فرمایااورفرمایاکہ دودن بعد لفافہ کھول کرپڑھاجائے پھرتم میں جوتیار ہوں ان کوساتھ لیکر آگے بڑھاجائے، تمہاری منزل منزل نخلع ہوگی ۔یہ جگہ مکہ اورطائف کے درمیان ہے انہوں نے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ اہل مکہ ایک پڑاؤڈالے ہوئے انکے ساتھ صرف چار محافظ ہیں ۔یہ رجب کا آخری دن تھا دوسرے دن سے عرب کے دستورکے مطابق لڑائی حرام سمجھی جاتی تھی اگروہ قافلہ پر حملہ نہ کرتے تودوسرے دن لڑائی منع تھی حضور کا حکم صرف دیکھ بھال کا تھا مگرعبداللہؓ بن جحش کو کرز کا چھاپہ یادتھا اسلئے ساتھیوں کے ساتھ صلح ومشورہ کے بعد قافلہ پر حملہ کردیا اس حملہ میں عمروبن الحضرمی ایک کافر ماراگیا ،دومحافظ قید کرلئے گئے اورایک محافظ بچ کرنکلنے میں کامیاب ہوا۔ عبداللہ بن جحش دونوں قیدی اورمال غنیمت کے ساتھ مدینہ واپس آگئے ۔
جنگ بدرسے پہلے کے دوسالہ حالات
ان دوسالہ حالات اور واقعات پر نظرڈالنے سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ سب واقعات ایک ہی جنگ کی کڑیاں تھیں جنہیں سمجھنے کیلئے واقعات کا اول تاآخرباہمی ربط ذہن میں رکھناضروری ہے۔
ہجرت کے بعد مدینہ کی زندگی کے ابتدائی ایام انتہائی مصروف اورخطرناک تھے، سارے ہی عربوں نے مسلمانوں کو اپنے نشانے پر رکھ لیاتھا، ہر طرف سے ان کو جنگ پر مجبور کرنے لگے، مسلسل کئی کئی دن حضوراور صحابہؓ کو دن رات ہتھیاربند رہناپڑتاتھا ،رات کو بھی ہتھیار لگاکر سوتے اور صبح کو ہتھیار لگاکر اٹھتے اور یہ کہتے ’’ کیا کبھی ایسا وقت بھی آئے گا جب ہم امن کے ساتھ رات گذار سکیں، اور اللہ تعالی کے سوا ہمیں کسی کا خوف نہ ہو‘‘ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔
وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملواالصالحات لیستخلفنھم فی الارض کمااستخلف الذین منقبلھم ولیمکننلھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا (نور : 55)
ترجمہ: تم میں جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ تعالی وعدہ فرماتاہے کہ ان کو زمین میں حکومت عطافرمائے گا جیسا ان لوگوں سے پہلے نیک لوگوں کو حکومت دی تھی۔ اور جس دین کو اللہ تعالی نے ان کے لئے پسند کیا ہے یعنی اسلام کو ان کے لئے قوت کا سبب بنائے گا۔اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔
ایک رات حضور نے خواہش ظاہرکی کہ اگرکوئی قابل اورتربیت یافتہ آدمی تیار ہو تو وہ حضور کی جگہ پہرہ پر کھڑاہو ۔ سعدؓ ابن ابی وقاص تیارکرہوکر ہتھیا رباندھے اورحضور کی جگہ پہرے داری کے لئے آئے۔ تب سرداردوجہان نے اس رات آرام فرمایا۔
’’سبحان اللہ‘‘!امت کو سبق دے رہے ہیں کہ تحفظ اور دفاع کے عمل میں سرداردوجہاں خود بھی کس طرح شریک عمل ہیں اورپہرہ دار کی ذمہ داری کتنی بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔
دو طرح کے کفار
رسول اللہ ﷺ کے دورمیں دو طرح کے کفار تھے، او ر قیامت تک ہر دور میں رہیں گے۔
پہلی قسم ان کفار کی تھی جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہر وقت لڑائی کرتے رہتے ، اور آپ کو تکلیفیں پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔
دوسری قسم ان کفار کی تھی جن سے رسول اللہ ﷺ نے یہ عہد لیا تھا کہ وہ آپ کے خلاف نہ جنگ کریں گے اور نہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کریں گے ،یہ لوگ اپنے اس عہد کے باوجود کفر ہی پر تھے جن سے حضور ﷺ نے معاہدہ فرمایاتھا۔
اسلام کا پہلا غزوہ
آپ مکہ سے ہجرت فرماکر ربیع الاول ہی کے مہینہ میں مدینہ تشریف لائے تھے ، ربیع الاول سے دوسرے سال صفر کے مہینے تک آپ ﷺ اندرونی انتظامات فرماتے رہے، ہجرت کے بعد جب رسول کریم ﷺ کو لڑائی کی اجازت ملی ۔
غزوۂ بدر :
17رمضان المبارک ۲ ھ جمعہ کے دن غزوۂ بدر پیش آیا جومدینہ منورہ سے 92میل اورمکہ سے 160میل کے قریب ہے۔ مدنی لشکر تربیت کے لحاظ سے اچھی تیاری میں تھا مہاجر صحابہ چند سرایہ پر جاچکے تھے اسلئے ان کی فنی تربیت اورجسمانی تندرستی زبردست تھی ۔انصارصحابہ بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے ۔لشکرکے ہرفرد نے تین چوتھائی راستہ پیدل طے کیا ۔پچیس تیس میل روزانہ سفرطے کرتے ۔مکی لشکر اپنے دشمن قبیلوں سے بھی سمجھوتہ کرلیاتھا ۔اس سال رمضان المبارک کے روزے بھی فرض ہوئے ،شروع رمضان میں حضور ﷺ کو یہ خبرملی کہ ابوسفیان قریش کے تجارتی قافلہ کو ملک شام سے واپس لا رہاہے جو مال واسباب سے بھرا ہواہے آپ نے مسلمانوں کو جمع کیااس قافلہ پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرنے کی ترغیب دی، یہاں باقاعدہ کوئی جنگ کی بات نہیں تھی اسلئے بغیر کسی جنگ کی تیاری کے آپ ﷺ نکلے۔
حضور ﷺ کے ساتھ 313صحابہ 2گھوڑے اور 70اونٹ تھے جب ابوسفیان کو حضور کی روانگی کی خبرملی تو اس نے ضمضم غفاری کو مکہ روانہ کیااور قریش سے کہا کہ وہ اپنے مال کی حفاظت کیلئے فوراً نکلیں ، اس خبر سے مکہ میں ہلچل مچ گئی اورایک ہزار آدمی اپنے سامان کو بچانے کیلئے پوری تیاری کے ساتھ نکلے ،ادھر حضور ﷺ کو بھی مکہ والوں کی روانگی کی اطلاع ملی آپ نے مہاجرین وانصار کو مشورہ کیلئے جمع کیا،پہلے صحابہ ابوسفیان سے لڑناچاہتے تھے اور اللہ تعالی کفار سے لڑاناچاہتاتھا تو صحابہ اللہ کی منشا ء کے مطابق لڑنے کیلئے تیار ہوگئے ،مسلمانوں کی مدد کیلئے اللہ نے پہلے ایک ہزار پھر پانچ ہزار فرشتے اتارے ۔اس جنگ میں 70کافرمارے گئے اور70قید ہوئے
--
،بدر سے واپسی کی پہلی شوال کو حضور نے عید کی نماز ادافرمائی ،یہ پہلی عید الفطر تھی اور اس غزوہ میں 14مسلمان شہیدہوئے۔
بدر کے بعد:
جن دنوں لشکراسلام بدر کے غزوہ میں مصروف تھا مدینہ کے یہودیوں نے اپنی خباثت کا ثبوت دیا انہیں خیال تھا کہ مکہ کا لشکر بہت بڑا ہے اسلئے وہ کامیاب رہے گا۔انہوں نے حضور کی غیر حاضری میں عین بدر کے وقت کوچہ اوربازارمیں تنہاعورتوں کو چھیڑناشروع کردیا حتی کہ ایک یہودی نے ایک مسلمان عورت پردست درازی بھی کی جس سے مسلمانوں کو سخت غصہ آیااورانہوں نے اس کو قتل کردیا اس واقعہ سے مسلمانوں او ریہودیوں میں برہمی پیداہوگئی۔جب حضور بدر سے واپس تشریف لائے تویہودیوں سے معاہدہ کی خلاف ورزی کا جواب طلب کیا مگربنوقینقاع نے جو شرارت میں آگے آگے تھے نہایت گستاخانہ جواب دیا اورکہا کہ مکہ والوں پر فتح پاکر آپ غرور کررہے ہیں اگرہمارے مقابلہ پر آئے توآپ کو ہم اپنی طاقت دکھادیں گے اسکے ساتھ ہی انہوں نے معاہدہ کی تحریر چاک کرکے حضور کے سامنے پھینک دی۔ حضور نے انکے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا چنانچہ ان کا گھیراؤ کر لیا گیا۔پندرہ دن کے گھیراؤکے بعد مجبور ہو کرانہوں نے صلح کی درخواست کی حضور نے اس شرط پر صلح کی کہ بنوقینقاع مدینہ چھوڑکر نکل جائیں گے اورتمام اسلحہ اورآلات زراعت مسلمانوں کے حوالہ کردیں گے اس شرط پر گھیراؤاٹھالیاگیا اوربنوقینقاع مدینہ سے نکل کر خیبر چلے گئے ۔
ابوسفیان کاتعاقب:
جنگ بدر میں قریش کو جو ذلت ہوئی اس نے قریش کے سرداروں جھنجوڑکررکھ دیا ابوسفیان نے مکہ واپس آکر اس بات کااعلان کیا کہ جب تک میں اپنے بھائیوں کابدلہ نہیں لوں گا چین سے نہیں بیٹھوں گا اورسرپر پانی نہیں ڈالوں گا اس قسم کو پوراکرنے کیلئے وہ دوسوسوارلے کر مسلمانوں کے علاقہ میں لوٹ مارکرنے کیلئے روانہ ہوا ۔اس نے معمول کے خلاف نجد کا راستہ اپنایااورمدینہ کے باہرپڑاؤڈالااوررات کے وقت چھپ کر مدینہ پہنچا اوردوقبائل کے سردار سے ملا حالات معلوم کرکے اپنے پڑاؤپر واپس آگیا۔ اسکے بعد اس نے کئی قبائل کو حضور کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی مگراسے کامیابی نہیں ہوئی دوسرے دن اس نے اپنے کچھ آدمیوں کو مدینہ کی طرف ر وانہ کیا انہوں نے مدینہ سے تقریبا تین میل کے فاصلہ پر دومسلمانوں کو جو کھیتی کررہے تھے قتل کردیا اوران کے کھجوروں کے باغ کو آگ لگاکر آئے مگرابوسفیان بھاگ گیا اور ستوکے تھیلے وہیں چھوڑگیا اسی لئے اس غزوہ کو’’سویق‘‘ کہتے ہیں۔
ابوسفیان کے بعد:(میڈیاکی جنگ)
نجد کے قبیلۂ بنی ثعلبہ نے شرارت کی اوریہ منصوبہ بنایاکہ مدینہ میں لوٹ مارمچاکروہاں کا نظم درہم برہم کردیاجائے حضور کے میڈیانے خبردی خبرملتے ہی ان پر ساڑھے چارسومجاہدین کے ساتھ اچانک ان پر حملہ کیا ناگہانی حملہ سے وہ اتنے بدحواس اور پریشان ہوئے کہ اپناعلاقہ چھوڑکر بھاگ گئے۔ آپ نے نجد کے راستہ پر ناکہ بندی فرمادی کیونکہ مکہ والوں نے اپناپرانہ راستہ چھوڑکر عراق کی طرف سے ملک شام جاناشروع کردیاتھا اس موقعہ پر مکہ والوں کا ایک قافلہ وہاں سے گذررہاتھا جس کا لیڈرابو سفیان تھا مجاہدین نے اس کو گھیرلیاتھا قافلہ والے مال چھوڑکر بھاگ گئے اورابوسفیان بھی بھاگ گیا ۔مسلمانوں کے پا س ایک لاکھ کی چاندی آئی اس واقعہ سے مکہ والوں کی پریشانی میں بے حداضافہ ہوگیا اورانہیں صاف نظرآنے لگا کہ اب ان کی تجارت ختم ہوگئی ۔تواب اہل مکہ نے یہودیوں کے مشورہ سے حضور کے خلاف شاعروں کے ذریعہ پرپکنڈہ شروع کردیا اورکسی طرح حضور کو قتل کرادیاجائے اس کے لئے قریش نے قابل شعراکی خدمات بالمعاوضہ حاصل کیں تاکہ شعر کی تاثیر سے لوگوں کے جذبات حضور کے خلاف ابھاریں۔شعرامیں کعب ابن اشرف قابل ذکر ہے یہ مدینہ کے قریب رہتاتھا اس کو مکہ بلایاخوب خاطر تواضع کی اسکے بعد اس نے حضور پر تہمتیں اورگالی گلوج اشعارمیں کرناشروع کیا ۔دل دکھانے والے اس سلسلہ کوختم کرنے محمد ابن مسلمہ نے آپ سے اس کے قتل کرنے کی اجازت طلب کی حضور نے اجازت دے دی محمد ابن مسلمہ کے ساتھ ابونائلہ بھی تھے جو خود بھی شاعر تھے ایک رات وہ اس سے ملنے گئے ابونائلہ کی آواز سن کر کعب باہرآیا جہاں محمدابن مسلمہ اوردوسرے صحابہ انتظارمیں تھے انہوں نے دیکھتے ہی اس کاکام تمام کردیا انہیں لوگوں میں ابورافع یہودی بھی تھا جو چرب زبان ہونے کے علاوہ مال دار بھی تھا حضور کے خلاف نفرت پھیلانے وہ لوگوں کو رات کے وقت اپنے قلعہ میں جمع کرتا اورمن گھڑت قصہ کہانیاں سناکر حضور کے خلاف ورغلاتا اس کا خاتمہ کرنے کیلئے انصار میں سے عبداللہ ابن عقبہ اوران کے ساتھیوں نے حضور سے اجازت مانگی اور اس کے گھر جا کر اسے قتل کردیا ۔
سلام ابن ابی الحقیق بھی اسی گروپ سے تعلق رکھتاتھا اس کے قتل کی اجازت خزرج قبیلہ کے انصاری مجاہدین نے مانگی اوراس کا بھی خوش اسلوبی سے کام تمام کردیا۔اس طرح قریش کا یہ منصوبہ اوراس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے والے ختم کردئے گئے ایسی کارروائی کو آج Fifth Columun کہاجاتاہے یعنی چالباز دستے ۔
غزوۂ احد :
مسلمانوں نے قریش مکہ کیلئے سخت مشکلات پیداکردی تھیں ایک طرف معاشی بحران اورتجارتی تعطل پیداہورہاتھا اورنقل وحمل کے راستہ بند ہورہے تھے ۔دوسری طرف عزت ووقار خاک میں مل رہاتھا بدر میں مسلمانوں سے ٹکر لی توالٹی شکست کھائی لہٰذا انتقام کی آگ خوب بھڑک رہی تھی روپیہ پیسہ کی کمی نہیں تھی فوراًڈھائی لاکھ درہم کا فنڈ جنگ کی تیاری کیلئے جمع کیا گیا اور تقریبا اتنی ہی رقم سے بدر کے قیدیوں کو چھڑایاگیا مکہ میں سردارانِ قریش نے اپنے نمائندوں کو سارے عرب میں بھیج کر انہیں بھی مدینہ پر حملہ کرنے کی دعوت دی اس طرح ایک سال میں تین ہزار کا لشکر جرار تیار کیا۔خود اہل مکہ نے اس سے پہلے اتنابڑالشکر نہیں دیکھاتھا قریش نے اپنے غلاموں کو بھی یہ لالش دے کر فوج میں شامل کرلیا کہ جو بہادری سے لڑے گے اسے آزاد کردیا جائے گا انہیں غلاموں میں وحشی بھی تھا۔ عورتوں کو بھی ساتھ لے لیا تاکہ ان کی حمایت اورغیر ت کی وجہ سے کوئی بھاگ نہ سکے حضورکفار کی ان تیاریوں سے غافل نہیں تھے آپ کے خفیہ جاسوس آپ کو برابر کفار کی تیاریوں کی خبریں پہنچارہے تھے مسلمانوں کی حالت بھی بہترہوچکی تھی۔جب مدینہ میں آپ کو یہ خبرملی توحضور ﷺ نے مشورہ کیا آپ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر حملہ کریں باہر نہ نکلیں مگرچند جلیل القدر صحابہ اس کے خلاف تھے آپ اندر تشریف لے گئے اورمسلح ہو کر نکلے ان مخلص احباب کو اپنے کئے پر پشیمانی ہوئی انہوں نے معذرت کی توحضور ﷺ نے فرمایاجب نبی ذرہ پہن لے توجائز نہیں کہ مقابلہ کے بغیر ہتھیار اتاردیں۔ایک ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے درمیان میں ابن ابئی منافق تین سو منافقوں کے ساتھ جد اہوگیا ۔ آپ احد پہنچے اور کوہ کو پشت کی جانب کیا اورمنع کیا کہ جب تک حکم نہ ہوقتال نہ شروع کیاجائے آپ کے ساتھ سات سوآدمی اورپچاس گھڑسوارتھے
پچاس تیراندازوں کو عبداللہ ابن زبیر کی ماتحتی میں ایک جگہ مقرر فرمادیااورتاکید فرمائی کہ کسی بھی حال میںیہاں سے نہ ہٹیں،دوسراانتظام آپ نے یہ کیاکہ کم عمرنوجوانو ں کوجنگ میں شرکت سے منع فرمادیاسمرہ اوررافع بہت اچھے تیر اندازتھے اوران کی عمر پندرہ سال تھی اسلئے ان کو اجازت دے دی ۔صف بندی کی آپ نے اس روز دوزرہ پہنی تھیں جھنڈا مصعب ابن عمیر کے ہاتھ میں تھا آپ نے اپنی تلوار ابودجانہ کو دیا جو بہت بہادر تھے اورتلوار کا حق بھی اداکیا۔
اسکے بالمقابل قریش کے آدمیوں میں دوسوگھڑسوار اورتین ہزار افراد تھے جنگ شروع ہوئی دن کے اول وقت مسلمانوں کی فتح ہوئی کفار پسپا ہوکر اس مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں ان کی عورتیں تھیں پچاس تیر انداز جو پشت کی طرف تھے ’’الغنیمۃ الغنیمۃ‘‘ کہہ کر چلے آئے اور مرکز کو چھوڑ دیا امیر نے روکا لیکن وہ نہ رکے قریش کے سوار وہاں سے آگئے اورہر طرف سے احاطہ کر لیا 70مسلمان شہید ہوگئے آپ کا چہرہ زخمی ہوگیاداہنی طرف نیچے کا موصلہ ٹوٹ گیاخود سرمیں بیٹھ گیا کفار نے پتھر برسائے جس سے پہلو پر چوٹ آئی آپ ایک گڑھے میں گر گئے حضرت ابودجانہ اپنی پیٹ کو ڈھال بناکر حضور کے سامنے کھڑیہوگئے تیر برابر ان کو لگتے گئے لیکن انہوں نے حرکت نہ کی۔حضرت حمزہ بڑی بہادری سے لڑرہے تھے وحشی نے چھپ کر نیزہ پھینکا جس سے آپ شہید ہوگئے ، بہت سے صحابہ کو تکلیفیں پہنچیں، کئی سارے زخمی ہوئے ،کفار نے مشہور کردیاکہ ہم نے محمد کو قتل کردیاہے۔
مسلمان پریشان ہوگئے اضطراب کا یہی عالم تھا کہ حضور ایک طرف سے تشریف لائے صحابہ وہاں جمع ہوگئے انصار نے عرض کیایہود ہمارے حلیف ہیں ارشاد ہو تو مدد طلب کریں حضور ﷺ نے فرمایاضرورت نہیں اسکے بعد ابوسفیان اور حضرت عمرؓ کے درمیان سوال وجواب ہوئے۔آپ نے حضرت حمزہ کی لاش دیکھا تو بڑاصدمہ ہوا تمام شہدا کی نماز جنازہ پڑھ کر وہیں ایک ایک قبر میں دودوتین تین کودفن کردیاگیا،یہ دن بڑی مصیبت کا تھا اس میں صادق الایمان اورمنافق اچھی طرح پہچانے گئے اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ حضور کی ایک چھوٹی بات نہ ماننے کی وجہ سے کیاکیامصائب پیش آئے ۔
واقعۂ رجیع:
جنگ احد سے قبائلِ عرب میں ایک طرح بے چینی سی پھیل گئی اور ان کے دلوں پر قریش کے زبردست اثر کو دیکھ کر بہت اثر ہوا اور حضور کے خلاف ان کی ہمتیں پھر بندھنا شروع ہوگئیں ، یہودیوں نے ا س موقعہ سے پورا فائدہ اٹھایا اور مشرکین کے ساتھ ملکر مسلمانوں کو کمزور کرنے کی پلاننگ شروع کردی ، اس پلاننگ کے تحت عضل اور قارہ کی ایک جماعت حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہماری قوم اگر چہ ایمان لائی ہے مگر دین سے ناواقف ہے لہذا ہمارے ساتھ چند دین سے واقف صحابہ کو روانہ فرمائے جو ہمیں دین سکھائیں گے ،حضور نے دس صحابہ کو ان کے ہمراہ کیا ، جب یہ لوگ رجیع کے مقام پر پہنچے تو بنو لحیان کے دو سو آدمی ان دس صحابہ کو گھیر لیا ، صحابہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے ، آپس میں لڑائی ہوئی آٹھ صحابہ شہید ہوگئے ،دو صحابہ کو کفار نے قید کرلیا اور مکہ لے گئے اور قریش کے ہاتھ بیچ دیا ، ایک خبیب ابن عدی ، انہوں نے احد میں حارث ابن عامر کو قتل کیا تھا اسلئے ان کو حارث کے لڑکوں نے خریدا تاکہ باپ کے بدلہ میں انکو قتل کرے اور د وسرے زید ابن وثنہ، زید کو صفوان ابن امیہ نے قتل کے ارادہ سے خریدا اور چند دنوں بعد دونوں کو مکہ سے باہر لے جاکر لوگوں کو جمع کر کے شہید کردیا۔
غزوۂ بنو نضیر :
یہ غزوہ احد کے بعد پیش آیا جس میں آ پ پر دیوار کے پیچھے سے ایک بڑاپتھر گرادینے کی سازش کی گئی،عمرو ابن جحش اس کیلئے تیار ہوا ادھر وحی سے آپ کو واقف کرایاگیا آپ وہاں سے چپ چاپ چلے آئے صحابہ بھی آپ کے پیچھے تھے ،پھرحضور نے ان کو دس روز کی مہلت دی ۔عبداللہ ابن ابئی کے بہکانے پر انہوں نے جواب دیاکہ ہم نہیں جائیں گے آپ کے دل میں جوآئے کیجئے تب آپ نے حملہ کی تیاری کا حکم دیا ۔مسلمانوں نے جب بنو نضیر کا محاصرہ کیا تومنافقوں میں سے کوئی ان کی امداد کو نہ آیا توآیت نازل ہوئی!
’’کمثل الشیطان اذقال للانسان اکفر‘‘حشر16
بعد میں یہ علاقہ خالی کردیاگیاپچاس خود ،پچاس زرہیں،تین سو چالیس تلواریں ان کے پا س سے ملیں۔
غزوۂ ذات الرقاع :
یہ جمادی الاول کی ۴ ھ کو ہوا اس میں آپ کے ساتھ 400یا 700آدمی تھے بنی غطفان کی ایک بڑی جمعیت مقابلہ کو آئی مگر جنگ نہیں ہوئی حضور کی جگہ ایک سایہ دار درخت کے نیچے تھی درخت میں آپ کی تلوار لٹک رہی تھی ایک مشرک آیا اورتلوارنکا ل کر پوچھاکہ کیا آپ ہم سے نہیں ڈرتے ؟آپ کو مجھ سے کون بچاسکتاہے ؟
فرمایاخدابچانے والاہے یہ سن کروہ کانپ اٹھا اورڈرکے مارے تلوارغلاف میں کرکے پھردرخت میں لٹکادی۔(اس غزوہ میں ایک ایک اونٹ پر چھ چھ آدمی باری باری سوار ہوتے تھے جس کی وجہ سے پیر پھٹ گئے انہوں نے پیروں پر چمڑے باندھ لئے اسلئے اس کانام ذات الرقاع پڑگیا)
بدرثانیہ:
غزوۂ احدسے لوٹتے وقت ابوسفیان نے کہاتھا ہماراتمہاراوعدہ ہے کہ آئندہ سال بدر میں مقابلہ ہوگا حضور نے بھی قبول کرلیاتھا۔دوسرے سال شعبان یا ذی قعدہ ۴ ھ میں آپ وعدہ کے موافق روانہ ہوئے ۔ایک ہزار پانچ سوآدمی اوردس گھوڑے آپ کے ساتھ تھے حضرت علیؓ علم بردار تھے حضور ﷺ بدرتک گئے آٹھ دن تک کفار کا انتظار کیا مکہ سے ابوسفیان دوہزارآدمی اورپچاس گھوڑے لے کر نکلامقام عسفان تک آیا وہاں اس نے کہا یہ سال مناسب نہیں اس سال خشک سالی تھی اسلئے سب لوٹ گئے ۔
دومۃ الجندل:
یہ ایک قلعہ ہے حضور ﷺ کو خبرملی کہ وہاں کفار جمع ہیں اورمدینہ آناچاہتے ہیںآپ نے ربیع الاول ۵ ھ میں سباع ابن عرفطہ کو خلیفہ بناکر ایک ہزارآدمیوں کے ساتھ وہاں کا رخ کیا اوربنی عذرہ کے ایک آدمی کو راستہ بتانے کیلئے ساتھ لے لیادومۃ الجندل میں حضور ﷺ کے آنے کی خبر پہنچی تولوگ منتشر ہوگئے حضورﷺ آئے توکوئی نہ ملاچند روز ٹہرے اوراطراف میں سرایابھیجے مگرکوئی مقابلہ نہیں ہوا
آپ خاموش مدینہ لوٹ آئے ۔
بنی المصطلق:
مصطلق بنی خزاعہ کے ایک شخص کا لقب ہے اوربنی خزاعہ کا ایک مقام ہے اسی پر حضور ﷺ ٹہرے تھے یہ شعبان ۵ میں واقع ہوا حضور ﷺ کوخبرملی کہ حارث بن ابی ضرار بنی المصطلق کاسردار اپنی قوم اوردوسرے عرب قبائل کو لیکر رسول اللہ اورانکے اصحاب سے جنگ کی نیت سے نکلاہے ۔آپ نے حصیب اسلمی کو تحقیق کیلئے بھیجا تحقیق کے بعد آپ نہایت عجلت سے نکلے اورمنافقین جو غزوات میں شریک نہیں ہوتے تھے وہ بھی ساتھ ہوگئے راستہ میں ایک جاسوس ملا جو مخبری کیلئے مخصوص تھا،حضرت عمر نے حضور ﷺ سے اجازت لیکر اسے قتل کردیا جب کفار کو حضورﷺ کی روانگی اور جاسوس کے قتل ہونے کی خبرملی توان پر رعب چھاگیااوروہ لوگ منتشر ہوگئے۔حارث کے ساتھ صرف انکے قبیلے کے لوگ رہ گئے آپ مصطلق پر ٹہرے اورپہلے ہی حملہ میں شکست دیدی مرداورعورتیں سب گرفتار ہوگئیں،اونٹ بکریاں بہت غنیمت میں ملے،کوئی مسلمان شہید نہیں ہوا،اسی میں واقعہ افک بھی پیش آیااور تیمم کا حکم بھی نازل ہوا۔
خندق:
یہ شوال ۵ ھ میں پیش آیا( اس میں چونکہ حفاظت کیلئے صحابہ نے خندق کھودی تھی اسلئے اس کو خندق کہتے ہیں اورسب قبائل متفق ہوکر لڑنے کیلئے آئے تھے اسلئے اس کا نام احزاب بھی ہے )
یہ تومعلوم ہوچکاہے کہ یہود بنی نضیر کو حضورﷺ نے مدینہ سے نکال دیااوربدر کا حال بھی وہ جانتے تھے تو روساء بنی نضیرنے بنی وائل کے ساتھ مل کرقریش کو حضورﷺ سے جنگ کرنے کی ترغیب دی اوروعدہ کیاکہ جب تک محمداوران کے اصحاب کا صفایانہ کردیں تب تک ہم تمہارے ساتھ ہیں۔قریش نے ان سے پوچھاہمارے اورمحمدکے مذہب میں کونسامذہب اچھاہے؟یہودیوں نے کہاتمہارادین محمد کے دین سے اچھاہے اورتمہارادین مقدم ہے۔آیت اتری
’’الم ترالی الذین اوتوانصیبامن الکتاب ‘‘(نساء)
کفار جواب سن کر بہت خوش ہوئے اورلڑنے پرعہد کردیااس مرتبہ قریش چارہزارآدمیوں کے ساتھ نکلے سردار ابوسفیان تھاانکے پاس تین سوگھوڑے اورایک ہزاراونٹ تھے سارے کفار جوغزو�ۂ خندق میں جمع تھے ان کی تعداد دس ہزار تھی حضور ﷺ کو جب خبرملی توآپ نے صحابہ سے مشورہ کیا اورسلمان فارسی کی رائے سے خندق کھودی اس طرح کہ خندق اورکوہ سلع کے بیچ میں قیام ہوسکے یہ بڑامشکل تھا اسلئے سب کھودنے میں شریک ہوگئے یہاں تک کہ حضور ﷺ بھی شریک رہے ۔موسم جاڑہ کا تھا سب بھوکے تھے کھانے کا کوئی سامان نہ تھا تین تین روز فاقہ ہوجاتاتھا خود حضور کے پیٹ پر پتھربندھاہواتھا حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضور کے سینہ اورپیٹ پر جوبال تھے وہ سب مٹی سے چھپ گئے تھے مگرآپ فرماتے تھے۔ ’’اللھم لاعیش الاعیش الاخرۃ انصرالانصار والمہاجرۃ‘‘
یہ مصائب تھے مگرصحابہؓ کا یہ حال تھا کہ ہرشخص نیکی میں بڑھ جاتاتھا حضرت سلمان نے اس دن تنہادس آدمیوں کا کام کیا یہ دیکھ کر انصار نے کہا کہ یہ ہم میں سے ہیں اور مہاجرین نے کہ ہم میں سے ہیں دونوں حضور کے پا س گئے توحضور ﷺنے فرمایایہ میرے اہل بیت میں سے ہیں سب کام کررہے تھے کسی کو بضرورت جاناہوتا توحضور سے اجازت لیکرجاتے البتہ منافقین کی حالت اسکے برخلاف تھی وہ کام سے جی چراتے تھے اوررسول اللہ ﷺ سے پوچھ کر گھر چلے جایاکرتے تھے ۔ خندق کھودنے کے درمیان بڑے بڑے آثار اورمعجزات ظاہرہوئے درمیان میں ایک پتھر ملا حضور نے اس پر تین ضربیں لگائیں اس میں شام ،یمن اور ایران دیکھااورفتح کی بشارت دی ۔نعمان ابن بشیرکی بہن کو ان کی ماں نے کچھ کھجور دیکر بھیجا کہ وہ اپنے باپ سعد ابن بشیر اوراپنے ماموعبداللہ ابن رواحہ کو دے آئیں حضور ﷺ نے ان سے لیکر اصحابِ خندق کو کھلایاجن کی تعدا دایک ہزار تھی اسی طرح حضرت جابرابن عبداللہ کے ساتھ بھی پیش آیاکفار مقابلہ کیلئے آئے حضور ﷺنے نسبتا اپنی عورتوں اوربچوں کو مدینہ کے محفوظ اوربلند مکانات میں جمع کردیااورتین ہزار مہاجرین اورانصار کے ساتھ کوہ سلع کے دامن میں ٹہرے اوربنوقریضہ نے جوآ پ کے حلیف تھے معاہدہ توڑدیا جس سے کفار بہت خوش ہوئے حضور کو اطلاع پہنچی توآپ نے تحقیق کیلئے بھیجا اورکہا کہ اس طرح اطلاع دو کہ مسلمانوں میں بد دلی نہ پھیلے یہ لوگ جب وہاں پہنچے تومعلوم ہوا کہ حالت اورزیادہ خراب ہے وہ علانیہ حضور کو برابھلاکہتے ہیں انہوں نے آکر کہا عضل اوروقارہ یعنی جس طرح انہوں نے بد عہدی کی تھی انہوں نے بھی کی اللہ کے رسول نے فرمایااللہ اکبر حسبنااللہ ونعم الوکیلادھر مسلمانوں کے خوف اورپریشانی کی حد نہیں رہی ضعفاء اسلام کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں منافقین اور ضعیف الایمان لوگوں نے کمزوری کا اظہار شروع کردیاایک مہینہ سے کچھ کم کفار کا محاصرہ رہا بالمقابلہ جنگ نہیں ہوئی مگرتیریں چلاکرتی تھیں کفار حیران تھے کہ اس خندق کو کیسے پار کریںیہ ایک ایسی تدبیر تھی کہ عرب اس سے کبھی واقف نہیں تھے آخرایک تنگ جگہ دیکھ کر داخل ہوگئے اورلڑنے کیلئے للکاراحضرت علی نے عمر ابن عبدود کو قتل کیا باقی بھاگ گئے یہ عرب کا مشہور بہادر تھا محاصرہ طویل ہوا مسلمانوں پر جو پریشانیاں اس غزوہ میں نازل ہوئیں کسی اورمیں نہیں ہوئیں بدر میں صرف ایک دن کا قصہ تھا اورصرف قریش سے تھا بعض کفار نے خندق کے ہرطرف ہجوم کیاصحابہؓ کو ہرطرف سے مدافعت کرنی پڑی ،کئی کئی نمازیں قضاہوگئیں،صحابہؓ اسی شدت ومصیبت میں گھیرے ہوئے تھے اورکوئی اچھی امید دکھائی نہیں دے رہی تھی کہ اچانک اللہ نے غیبی امداد کا ایک ذریعہ بنادیا۔
بنی غطفان کے ایک شخص نعیم ابن مسعود حضور ﷺ کی خدمت میں آکر مسلمان ہوگئے کفار کواس کا علم نہیں ہوا حضورﷺ نے فرمایاجنگ میں فریب ہے اس لئے جو مناسب ہو کرو، وہ پہلے بنوقریضہ میں گئے اوراظہار ہمدردی کے بعد کہا اگرجنگ میں فتح ہوئی تو ٹھیک اوراگر شکست ہوگئی تو قریش اورغطفان بھاگ جائیں گے مگر تمہاراوررسول اللہ ﷺ کا سابقہ ہوگا اس وقت تمہاراکیاحال ہوگا؟ اسلئے قریش اور غطفان سے کچھ آدمی رہن مانگ لو!اگردے دیں توشرکت کروسب نے کہا یہ صحیح ہے ۔نعیم اس کے بعد قریش کے پاس گئے اورکہا یہود اپنے کئے پر پشیمان ہیں انہوں نے حضور ﷺسے کچھ آدمی قریش اورغطفان کے گرفتار کرکے حوالے کرنے کاوعدہ کیاہے اب یہود کا ارادہ تم سے رہن طلب کرنے کا ہے یہی باتیں نعیم نے غطفان میں بھی کہی اس طرح کفار میں سخت اختلافات ہوگئے ۔ایک دوسری غیبی مددیہ ہوئی کہ اس دن زوردار طوفان آیا اورکفار کے سارے خیمہ اکھڑ گئے تنابیں ٹوٹ گئیں سامان منتشر ہوگئے چولہے بجھ گئے حضورﷺ نے حضرت حذیفہ ابن الیمان کو بلاکر کفار کا حال دریافت کرنے بھیجا انہوں نے دیکھا کہ کفار کے ہوش اڑ گئے ہیں ابوسفیان نے قریش سے کہا اب ہم نہیں ٹہرسکتے قریش کی خبرسن کر غطفان بھی روانہ ہوگئے اس طرح تمام قبائل جو متفقہ طور پر حملہ کیلئے جمع ہوئے تھے ناکام واپس ہوئے حضور نے ارشاد فرمایااللہ تعالی نے’’ صبا‘‘کے ذریعہ میری مدد فرمائی اور’’ دبور‘‘ سے قوم عاد کو ہلاک کیا ۔
بنوقریضہ:
یہ غزوہ ربیع الاول ۵ ھ میں پیش آیا مسلمانوں پر عرب کے دس ہزار مختلف قبائل نے حملہ کردیا توآپ نے مدینہ میں حفاظت نہ ہونے کے سبب بچوں اورعورتوں کو مدینہ ہی میں چھوڑکر کوہِ سلع میں پناہ لی پہاڑ کو پشت کی طرف کیا اورآگے خندق کھود دی باہر تمام قبائل نے گھیراؤکیا ایک مہینہ تک یہ گھیراؤرہا بالاخرحضور ﷺ نے مسلمانوں کو حملہ کا حکم دیا مسلمانوں نے بنی قریضہ کا محاصرہ 25دن تک جاری رکھا وہ مایوس ہوگئے انکے سردار کعب ابن اسعد نے کہا کہ اب نجات کی صورت یہ ہے کہ سب کے سب مسلمان ہوجاؤ اگریہ نہ ہوسکے تواپنے بیوی بچوں کو خود قتل کردو یا تلوار لیکرنکلو،اگریہ بھی نہ ہوسکے تو ہفتہ کے دن مسلمانوں پر حملہ کردو کیونکہ مسلمان اس دن غافل رہتے ہیں۔ بنوقریضہ نے ایک بھی شرط نہیں مانی آپ نے حضرت سعد ابن معاذ کو ان کا حکم بنادیا انہوں نے پوچھا کیامسلمان میرا فیصلہ مانیں گے جواب دیا ہا ں توحضور کی طرف ادبا اشارہ کرکے کہا کیاآپ بھی مانیں گے ؟توآپ نے جواب دیا ہاں!تب سعد نے فرمایا میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان ملعونوں کو قتل کردیاجائے ان کی باندیوں اوراولاد کو گرفتار کرلیاجائے، ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کردیاجائے حضور ﷺ نے ان کے فیصلہ کو قبول کرلیا اورسب مردوں کو قتل کردیا اورعورتوں کو چھوڑدیا ۔
غزوۂ بنی لحیان:
بنی قریضہ کے چھ مہینہ بعد آپ نے ابن ام مکتوم کو خلیفہ بناکر 200مہاجرین اورانصار کے ساتھ لحیان کے ارادہ سے نکلے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان کو سزادی جائے مگرمقصد کوپوشیدہ رکھنے کی غرض سے شام کا سفرکیا وہاں سے مکہ کی راہ میں پلٹے اوروہاں سے ان مقامات پرگئے جہاں اصحاب رسول ﷺ مصائب میں مبتلا تھے اورقتل کئے گئے تھے آپ نے انکے لئے مغفرت کی دعاکی جب بنولحیان کو خبرملی تووہ لوگ پہاڑوں اورگھاٹیوں میں بھاگ گئے دودن تک آپ ٹہرے کوئی نظرنہیں آیا آپ نے ادھر ادھر سرایا بھیجے مگرکوئی نہ ملا تب آپ واپس مکہ لوٹے آگے عسفان میں ٹہرکر حضرت ابوبکر اورحضرت سعد کو دس آدمیوں کے ساتھ کراع الغمیم تک بھیجا کوئی مقابلہ نہیں ہوا مقصد صرف یہ تھا کہ قریش کو مسلمان سواروں کے آنے کا حال معلوم ہوجائے اوران پر رعب طاری ہو 14دن آپ مدینہ سے باہر رہے پھر مدینہ واپس آئے۔
ذی القرد:
یہ ایک چشمہ کا نام ہے جو مدینہ میں ایک منزل پربلاد بنی غطفان کے قریب ہے اس کو غزوۂ غابہ بھی کہتے ہیں۔ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے غلام حضرت رباح کو اپنے اونٹ دیکھنے کیلئے اس جگہ بھیجا انکے ساتھ سلمہ ابن اکوع بھی تھے ان کے پاس طلحہ ابن عبیداللہ کا گھوڑا تھا ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ایک فزاری نے آپ کے اونٹوں پر حملہ کردیا اورہانک کرلے گیا چرواہے کو قتل کرکے اس کی عورت کو بھی لے بھاگا سلمہ ابن الاکوع ثنیۃ الوداع پہنچے توواقعہ کا علم ہوا دشمن سوار نظر آئے انہوں نے گھوڑادے کر رباح کو مدینہ روانہ کیا تاکہ حضور کو خبرکردیں اورخود تعاقب میں نکل گئے یہ بڑے زبردست تیر انداز تھے سلع کے دامن میں زور دار آواز دی ’’یاصباحا!‘‘تاکہ خطرہ کی خبر مدینہ میں پہنچ جائے اوردشمن کے پیچھے چلے گئے قریب پہنچ کر تیر مارناشروع کردیاہرتیر میں ایک ایک شخص کو زخمی کرتے اوریہ کہتے جاتے۔۔۔
’’اناابن الاکواع الیوم یوم الرضع ‘‘
ترجمۃ: آج دیکھ لیا جائیگا کہ کون اپنی ماں کادودھ پیا ہے !
ان کی طرف کوئی رخ کرتا تو درخت کی آڑ سے تیر مارکر زخمی کردیتے کبھی پہاڑیوں پر چلے جاتے کبھی نظروں سے غائب ہوجاتے دشمن دو پہاڑیون کے درمیان تنگ راستہ سے حملہ کرناچاہتا تواوپر جا کر پتھر برسانا شروع کردیتے اس طرح دشمن کو پریشان کردیا دشمنوں نے ہزار کوششیں کیں مگروہ ہاتھ نہیں لگے۔خود فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے جتنے اونٹ تھے واپس لے لئے اوران کو مدینہکی طرف ہنکادیا پھر تعاقب میں نکل گئے دشمنوں کی حالت یہ ہوگئی کہ چادریں اور نیزے بوجھ ہلکاکرنے کیلئے راستہ میں ڈالتے جاتے اورہم ان پر نشان رکھ کر آگے پھر تعاقب میں نکلتے 30سے زیادہ چادریں اورنیزے انہوں نے پھینکے مگر ہم نے تعاقب نہیں چھوڑا ایک مقام پر ایک فزاری اس جماعت کے پاس آیا اور کہا کیوں پریشان ہو؟توکسی نے کہا اس شخص نے ہم کو پریشان کردیا یہاں تک کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے اسکے بعد حضور کے سوار درختوں میں سے نمودار ہوئے سب سے آگے اخرم تھے ان کو دیکھ کر دشمن بھاگنے لگے ہم نے ان کو پکڑا اور کہا تنہامت جاؤ حضور ﷺ آنے دو انہوں نے جواب دیا سلمہ اگرتم جنت،اللہ اوراسکے رسول پر ایمان رکھتے ہو تومیرے اورشہادت کے درمیان حائل نہ بنو چنانچہ وہ لڑے اورشہید ہوگئے۔حضرت سلمہ نے پھر تعاقب کیا دشمن چشمۂ ذی قرد پر پانی پیناچاہتے تھے تیر مارناشروع کردیا وہ لوگ بھاگ گئے مغرب تک تعاقب کیا اوردوگھوڑے چھینے،واپس ہوئے توآپ کو اپنے اصحاب کے ساتھ چشمہ کے پاس تشریف رکھے پایابلال گوشت بھون رہے تھے اس غزوہ میں دولوگ شہید ہوگئے حضور ﷺ نے فرمایاسواروں میں سب سے بہتر ابوقتادہ ہیں اورپیدل چلنے والوں میں سلمہ ابن الاکوع ۔لوٹتے وقت حضور نے ان کو اپنا ردیف بنایا۔
وادی قری:
حضور نے رمضان المبارک ۶ ھ میں زید ابن حارثہ کو وادی قرای کی طرف روانہ کیا وجہ یہ تھی کہ زید تجارت کیلئے شام گئے تھے صحابہ کامال بھی ان کے ساتھ تھا لوٹتے وقت وادی قرای میں فزارہ کی ایک جماعت نے ان کے قافلہ پر ڈاکہ ڈالا اوران کی تعداد کم تھی اسلئے سبھوں نے ان کو بہت مارااورمال بھی لے لیا مدینہ آئے توحضور ﷺنے امداد کیلئے ایک جماعت دے کر بھیجا اس مرتبہ یہ گئے توان سے بدلہ لیا کچھ لوگوں کو قتل کیا باقی بھاگ گئے ان کی عورتوں کو گرفتار کرکے مدینہ لے آئے ۔
حدیبیہ:
ذی قعدہ سن ۶ ھ میں سروردوعالم ﷺچودہ صحابہ کے ساتھ عمرہ کیلئے روانہ ہوئے ایک شخص کو جاسوس بناکر بھیجا کہ قریش کے حالات کی خبردیں جاسوس نے خبردی کہ قریش کو آپکے آنے کی اطلاع ہوچکی ہے اوروہ قبائل کو جمع کرکے مقابلہ کیلئے تیاری میں مصروف ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہ دیں حضور نے صحابہ سے مشورہ کیا توصدیق اکبر نے عرض کیا خدا کے رسول ہم تو بیت اللہ کے ارادے سے نکلے ہیں جنگ یا قتال ہمارا مقصد نہیں ہم یہ مقصد کوسمجھتے ہوئے آگے بڑھیں گے اورجو جماعت راستہ روکے گی اس سے مجبورا لڑائی ہوگی چنانچہ حضور آگے بڑھے اوراپنی اونٹنی پر سوار ہوکر نکلے تھوڑی دور جانے کے بعد آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی قریش مکہ کی بیہودگی
اورجنگی ذہنیت کی وجہ سے جنگ کی صورتحال پیداہوگئی ہے اسلئے خداکی مرضی یہ ہے کہ ہم اس وقت تک آگے نہ بڑھیں جب تک کعبہ کی حرمت کا عہد نہ کرلیں جب حضور یہ اعلان فرماچکے تواونٹنی کھڑی ہوگئی اور چل پڑی۔
حدیبیہ پہنچے حضرت عثمان کو مکہ بھیجا تاکہ یہ واضح کریں ہماراارادہ بیت اللہ کی زیارت کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔قریش نے حضرت عثمان کو واپس جانے سے روک لیا مسلمانوں تک یہ خبراس طرح پہنچی کہ عثمان قتل کردئے گئے حضور نے مسلمانوں سے اس بات پر بیعت لی کہ مرجائیں گے مگرکوئی بھی راہ فرار اختیار نہیں کرے گایہ خبرمکہ پہنچی انہوں نے مسلمانوں کو یہ بتایا کہ یہ خبرغلط ہے چونکہ جہاد کی یہ بیعت نازک اور اہم موقعہ پر لی گئی اسلئے اللہ نے مسلمانوں کی اس فداکاری کی قدر فرمائی اوراپنی خوشنودی کا پروانہ اتار ا ! لقدرضی اللہ عن المؤمنین اذ یبا یعو نک تحت الشجرۃ(فتح)
مسلمانوں کے اس جوش اورجذبہ کا اثریہ ہوا کہ مشرکین صلح پر آمدہ ہوگئے معاہدہ میں یہ باتیں طے ہوئیں:
۱)اس سال مسلمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس مدینہ چلے جائیں(۲)آئندہ سال معمولی حفاظتی ہتھیاروں کے علاوہ کوئی ہتھیار انکے پاس نہیں ہوگا اور صرف تین دن قیام کریں گے(۳)اگرکوئی شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر مسلمان ہوکر مدینہ چلاجائے تواس کو واپس کرناہوگا(۴)اگرکوئی مدینہ سے مکہ بھاگ آئے توواپس نہیں کیاجائے گا(۵)یہ معاہدہ دس سال تک رہے گا کوئی اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
غزو�ۂخیبر:
صلح حدیبیہ کے بعد حضور ﷺ مدینہ کے قرب و جوار کے ان قبائل کی طرف متوجہ ہوئے جو فساد برپا کر نے میں مصروف تھے ، ان میں سب سے زیادہ طاقت ور اور سب سے بڑے فتنہ پرور خیبر کے یہودی تھے ، مدینہ سے نکالنے کے بعد بنو نضیر خیبر میں آگئے تھے اور یہاں کے یہودیوں نے انہیں پناہ دی تھی ، اور بنو غطفان بھی ان یہودیوں کی مدد کے لئے خیبر روانہ ہوگئے ، حضور کی فوجی نقل وحرکت ہمیشہ پر اسرار ہوتی تھی ، آپ نے خیبر کا رخ کیا تو بجائے سیدھے تشریف لے جانے کے ایسا راستہ اپنایا جو غطفان اور خیبر کے درمیان سے ہو کر گذرتا ہے اسلئے خیبر کے یہودیوں اور غطفانیوں میں سے کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ حضور کا حملہ کس پر ہو نے والا ہے ، حضور اچانک حملہ کرتے تھے اسلئے دونوں کو یہ خوف ہوا کہ حملہ ہمارے اوپر ہو نے والا ہے لہذا غطفان کے قبیلہ نے اپنے لشکر کو واپس بلا لیا وہ خیبر کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کی تدبیروں میں رہ گئے اور خیبر کے یہودی تنہا رہ گئے ، آپ نے پہلے غطفان کے علاقہ پر قبضہ کیا اسکے بعد خیبر کی طرف متوجہ ہوئے خیبر میں یہودیوں نے کئی چھوٹے بڑے قلعے بنارکھے تھے ، جوبیرونی حملے سے انہیں محفوظ رکھتے تھے ، سب سے پہلے ’’ناعم‘‘ نامی قلعہ کو مسلمانوں نے فتح کیا ، یہاں یہودیوں نے ایک صحابی پر چکی کا پاٹ پھینکا ،جس سے وہ شہید ہوگئے، حضور نے ان قلعوں کو فتح کر نے کے لئے کئی سالار مقرر فرمائے مسلم سالار نے ان قلعوں کا بارہ دن تک محاصرہ کیامگر کامیابی نہیں ہوئی تیرھویں دن حضور خود میدان جنگ میں تشریف لائے اور حضرت علی کو سالاری دی ، اور حضرت علی کی قیادت میں خیبر فتح ہوا ،فتح کے بعد خیبر کے یہودی ہتھیار ڈالدئے ، اور جلا وطنی کی شرط پر تمام جائداد چھوڑ کر نکل جانا منظور کر لیا ، حضور نے انکی پیش کش قبول کر لی اور جن یہودیوں نے بطور کاشتکار وہاں رہنے کی خواہش ظاہر کی انہیں اسکی اجازت دیدی ۔
فتح مکہ:
یہ عظیم الشان واقعہ رمضان المبارک ۸ ھ میں پیش آیا صلح حدیبیہ میں جو معاہدہ ہوا تھا قریش نے اس کو توڑدیا جس کی وجہ سے آپ نے جہاد کا حکم دیا اوریہ معلوم نہ ہواکہ کہاں کا ارادہ ہے اتنے میں حاطب ابن بلتعہ نے مشرکین مکہ کے نام اپنے اہل وعیال کو ان کی تکلیفوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ایک خط لکھ دیا اورایک عورت کو دے کر بھیجا حضور کو یہ بذریعہ وحی معلوم ہوگیا آپ نے اس عورت سے خط چھین لینے کا حکم دیا جب خط ملا توحضور نے ان سے وجہ پوچھی انہوں نے اپنے اہل وعیال کی حفاظت کا عذرکیا حضور نے انہیں معاف کردیایہ فرمایایہ بدرکے مجاہد ہیں، اسلامی لشکر جب مکہ کے قریب پہنچاتوابوسفیان چھپ کر لشکر کا اندازہ کررہاتھاکہ اچانک مسلمانوں نے گرفتار کرکے خدمت اقدس میں پیش کیا آپ نے معاف فرمادیااورارشاد فرمایا !
لاتثریب علیکم الیوم یغفراللہ لکم وھوارحم الرحمین
بتوں کو توڑنے کے بعد مکہ جب بتوں کی نجاست سے پاک کردیاگیاتوآپ نمازسے فارغ ہوئے اور تمام قیدی قریشیوں کو حاضرہونے کا حکم دیا اورفرمایاتمہاراکیاخیال ہے ؟ میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آؤں ؟ انہوں نے جواب دیا ہم آپ سے خیر کی امید رکھتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا !
اذھبواانتم الطلقاء
اس عف و کرم کا یہ نتیجہ ہوا کہ قریش کے سردار اسلام میں جوق درجوق داخل ہوتے گئے ۔
حضور نے خطبہ دیا اس میں چند باتیں ارشاد فرمائیں:
۱)مسلم اورغیر مسلم ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے (۲) کسی عورت کو تین دن کا سفر بغیر محرم کے درست نہیں
۳)صبح اور عصر کے بعد کوئی نفل نمازنہیں ہے اور عید الفطر واضحی کے دن روزہ جائز نہیں (۴)تمام مردوعورت برابر ہیں سب مٹی سے بنائے گئے ہیں
یاایھاا لناس ان کنتم فی ریب من البعث فاناخلقناکم من تراب (حج:5)
غزوۂ حنین:
فتحِ عظیم کے بعدمشرکین عرب کی شوکت کا تقریبا خاتمہ ہوگیااب سارے عرب قبائل اسلام میں داخل ہوتے گئے یہ دیکھ کر حمیت جاہلیت بھڑک اٹھی اورمشرکین اسلام کی ترقی کو برداشت نہ کرسکے حملہ کا منصوبہ بنایا، حضور کو جب حال معلوم ہوا تو صحابہ کو اکھٹا کرکے مشورہ کرنے کے بعد مدافعت کیلئے ۱۰شوال ۸ ھ کو حنین روانہ ہوئے اس وقت لشکر اسلام میں بارہ ہزار جانثار تھے دس ہزار انصار ومہاجرین اوردوہزار نومسلم تھے ۔ جنگ کی تیاری شروع ہوئی،پرچم حضرت علی کے ہاتھ میں تھا حضور نے بھی بذات خودہتھیار باندھے، دوذرہ ملبوس فرمائے ،ابھی جنگ کی شروعات بھی نہیں ہوئی کہ مسلمانوں کے اندر ان کے لشکر کی کثرت اور قوت کے گھمنڈ پر زبان سے یہ نکل گیا کہ آج
ہماری قوت کو کوئی شکست نہیں دے سکتا خدا کو یہ فخر پسند نہیں آیا اسلئے عبرت کیلئے اللہ نے یہ انتظام کیا کہ کفار کی طرف سے چہارجانب سے اسلامی لشکر پربارش کی طرح تیریں برسناشروع ہوگئیں اس سے مسلمانوں میں تزلزل آگیاچند صحابہ کے علاوہ تمام قبائل نے راہ فرار اختیار کی حضرت عباس نے حضور کے اشارہ پر بلند آواز سے مفرورمسلمانوں کو للکاراسب آپ کی طرف جمع ہوگئے اورجنگ کی نتیجہ یہ ہوا کہ شکست فتح میں بدل گئی اسی پریہ آیت اتری !
لقدنصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ ویوم حنین اذاعجبتکم کثرتکم الخ(توبہ)
تبوک:
یہ شام کا ایک مشہور شہرہے سن ۹ ھ میں حضور کو یہ اطلاع ملی کہ قیصر روم ایک عظیم لشکر لیکر مسلمانوں پر چڑھائی کیلئے تیاری کررہاہے یہ خبراس وقت آئی جب حجاز میں قحط پڑاہواتھا زمین پیداوار سے خالی،نہریں اورتالاب خشک اور شدید گرمی تھی اس کے باوجود موسم بہار تھا باغوں میں کھجوریں پک رہی تھیں عرب کے دستور کے مطابق لوگ باغوں میں خیمہ زن موسم بہار کے مزے لوٹناچاہتے تھے سخت آزمائش کا وقت تھا سینکڑوں میل کی مسافت اورتپتے ہوئے ریگستان ہونے کے باوجود مسلمان بے خوف ہو کر مدینہ میں جمع ہورہے تھے حضور نے ایسی مشکل گھڑی میں اصل حقیقت کا اعلان کردیاتاکہ جو شخص بھی اس کانٹے دار وادی پر قدم رکھے سوچ سمجھ کر رکھے یہ پہلا غزوہ تھا جس میں آپ نے مالی مدد کیلئے ترغیب دی ۔چنانچہ حضرت عثمان دس ہزار سرخ دینار،سواونٹ او ر پچاس گھوڑے دئے اورحضرت عمر نے اپنا آدھامال دیا۔عورتوں نے بھی اپنے حوصلوں سے زیادہ اپنے زیورات پیش کئے ،حضرت ابوبکرنے تواپناسارامال دے دیا۔
جب مسلمانوں کا لشکر جرار تبوک کی طرف بڑھا توجاسوسوں نے ہرقل کو خبرکردی یہ خبرسنتے ہی وہ ہوش وہواس کھوبیٹھا خائف ہو کر مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی سب منتشر ہوگئے آپ معاہدہ اورامن کا پروانہ دے کر واپس آگئے۔
(اسی میں ان تین اصحاب کا واقعہ بھی پیش آیاجوپیچھے رہ گئے تھے پھر ان کے بارے میں توبہ بھی نازل ہوئی )
No comments:
Post a Comment