Monday, June 9, 2014

دعوه




خطبہ جمعہ


غیرمسلموں میں دعوت الی اللہ



تبارک الذ ی نز ل الفرقان علی عبد ہ لیکون للعلمین نذ یرا (الفرقان)
اللہ تعالی نے حضرت محمد ﷺ کو تمام عالم کی ہدایت کیلئے نبی بنا کر بھیجااور آپؑ پر نبوت کو ختم فرمادیا ۔ ختم نبوت صرف انبیاء کے سلسہ کو ختم کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اب یہ کام اس امت کو انجام دینا ہے ۔ آپ ؑ کے بعد نبوت کی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کاآپ ؑ کی امت کو حکم دیا اسی لئے تم خیر امت ہو ۔کنتم خیر امۃ اخرجت للناس 
اگر مسلمان اس فرض کی ادئیگی میں کوتاہی کریں گے تو وہ اس کوتاہی کا لازمی نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰان کو خیر امت کے اس منصب سے محروم کرکے دوسری قوموں کو اس فرض کی ادائیگی کیلئے کھڑاکردے ۔قیامت کے دن تمام غیر مسلم مسلمانوں کو اپنے بے ایمان ہونے ذمہ دار قراردیں گے اس دن کیا ہم اپنے کوتاہی کا اللہ کے سامنے کوئی عذر پیش کرسکیں گے ۔غیر مسلموں کودعوت ایمان ایک فریضہء رسالت ہے 
انسانوں کی موت کے بعد آخرت میں جنت یا دوزخ کا فیصلہ ایمان کی بنیاد پر ہی ہوگا ۔یہ کوئی معمولی سی بات نہیں ہے انتہائی اہم اور سنگین بات ہے،آخرت کوئی چھوٹی مدت نہیں ہے اور نہ وہاں سے کوئی واپس آسکتا ہے ۔
آج مسلمان اپنے نبی کی سنتوں کی ادائیگی کا بہت اہتمام کرتے آپ ﷺ کی سب سے بڑی سنت جس پر آپ ؑ نے پوری زندگی اہتمام کیا وہ دعوت الی الایمان ہے ہمیشہ آپ ؑ کو اسی کی فکر رہتی تھی مسلمانوں کا وہ طبقہ جسے سنتوں کی بڑی فکر ہے انہیں لوگ بھی غیر مسلموں کو دعوتعملا ترک کردیا ہے بلکہ ان کو معلوم بھی نہیں ہے مسلمانوں کے سامنے کوئی بھی دینی پروگرام رکھے جا ئیں انہیں بات سمجھ میں آجاتی ہے مگر غیر مسلموں میں دعوت کی بات ان کی سمجھ میں ہی نہیں آتی اگرچہ اس کے حق میں کتنے ہی دلائل پیش کردئے جائیں ۔
مسلمان دعوت سے پہلے انہیں بددعا دیتے ہیں : 
مدعو قوم پر اتمام حجت کے بغیر جو بددعا کی جائے گی وہ کبھی قبول ہونے والی نہیں ہے ،خواہ برسوں تک یہ بددعائیں کی جاتی رہیں ۔ہرحادہ کے بعد ہم ان کی ہلاکت کی دعائیں برسوں سے کرتے آرہے ہیں ایک بھی قبول ہے کے نہیں دیا ،بلکہ الٹا مسلمانوں پر ہی مصیبت اور ذلت طاری ہورہی ہے ۔
آج مسلمانوں کے اندر سے سب سے بڑی چیز جو کھو گئی وہ دعوتی ذہن ہے ،مسلمانوں میں آج ہر طرح کے نیکی کے کام نظر آتے ہیں مگر غیر مسلموں کو دعوت کی سرگرمیاں کم ہی نظر آتی ہیں ،عیسائیوں کے تبلیغی ادارے ،دوا خانے اور خدمت خلق کی شکل میں اتنے منظم اور وسیع پیمانے پر دعوت کا کام کرہے ہیں جس کی کوئی دوسری مثال ملنی مشکل ہے افریقہ کے وحشی سے وحشی قبائل کیوں نہ ہوں ان تک بھی یہ لوگ پہنچ جاتے ہیں ۔
صحابہ کے بعد آہستہ آہستہ یہ کام کم ہوتا گیا اور آج تو تقریبا نہ کے برابر ہی کہا جاسکتا ہے ،صحابہ اور تابعین ہمیزہ اساسات دین پر متوجہ رہتے تھے جب دیگر قومیں اسلام داخل ہوئیں تو اساسات دین کے بجائے جزئیات دین کو طے کرنے الجھ گئے ،فقہ میں جزئیاتی امور پربحثیں پیدا ہوگئیں ،خود قرآن وحدیث بھی انہیں اختلافی بحثوں کی روشنی میں پڑھائے جانے لگے ۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہنکلا کہ اسلامی درس گاہوں اور ان سے نکلنے والوں کی توجہ دعوت سے ہٹ گئی ۔
مسلمان غیر مسلموں کی زبان سیکھنے سے دلچسپی نہیں رکھتے : 
مسلمانوں کے پاس اسلامی کتابوں کا ذخیرہ یاتو عربی میں یا فارسی اور اردو میں ہے اس سے ہٹ کر دوسر ی زبانوں میں کم اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو طبقہ مذہبی خدمت کرتا ہے وہ اردو عربی کے علاوہ دوسر ی زبانوں سے ناواقف ہے ،تکنیکی لحاظ سے ہم کچھ تیاری کئے بغیرکہہ دیتے ہیں کہ دعوت الی اللہ میں رکاوٹ ہمارے اعمال ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنی مقصدیت ہی کھودی ہے اور جدید دنیا میں ایک بے مقصد گروہ بن کر رہ گئے ہیں ،وقت کا اہم ترین تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک بامقصد گروہ بنایا جائے ،یہ مقصد صرف دعوت کے راستے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے 
مسلمانوں سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ وہ دعوت وتبلیغ کا کام غیر مسلموں میں کیوں نہیں کرتے ؟تو تقریبا ہر جگہ یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم خود اسلام پر عمل نہیں کررہے ہیں ۔ہمارے پاس اعمال صالحہ کی کمی ہے اور ہمارے پاس ایسے اعمال نہیں ہیں جنہیں دیکھ کر غیر مسلم متاثر ہوسکیں ۔یہ باتیں بظاہر درست معلوم ہوتی ہیں لیکن قرآن و حدیث میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ جب تک تم پورے ولی بن جاؤ تب ہی دعوت وتبلیغ کا کام کرنا ۔
ہمارے ایسے بہت سے مسلمان بھائی ہیں جو گناہ کبیرہ ،سود ،شراب ،زنا،رشوت ،فسق وفجور سے بچتے ہوئے نماز اور روزہ کے پابند ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو غیر مسلموں کو دعوت دینے کے اہل نہیں سمجھتے ۔ایسے لوگ پمیشہ مسلمانوں کی بد اعمالیوں اور خرابیوں کی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دعوت الی اللہ میں سب بڑی رکاوٹ ہماری قوم کیاعمال کی خرابی ہے وہ اسی انداز سے قوم کی خرابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے دعوت الی اللہ جیسی عظیم سعادت ۔۔۔سے اپنے آپ کو محروم رکھتے ہیں ۔ 
یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ لوگوں کو ہم اپنے گھر کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں بلکہ دعوت ایمان دے رہے ہیں اور دعوت ایمان ایسی چیز ہے جس کو ہرانسان اپنے ضمیر کی آواز سمجھتا ہے اور حق وباطل میں فرق محسوس کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔
ایک میڈیکل دوا کمپنی کا نمائندہ اپنی ذات کا نہیں بلکہ وہ جس کمپنی کا ملازم ہوتا ہے اسی کی دوا کا تعارف کراتا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment