Tuesday, June 10, 2014

اسلام اور سوشیل ورک



خطبہ جمعہ 
اسلام اور سوشیل ورک
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم 
فآت ذاالقربی حقہ والمسکین وابن السیل ۔ذلک خیر للذین یریدون وجہ اللہ ۔واولئک ہم المفلحون ۔ (الروم :۳۸)
ترجمہ :پس رشتہ داروں کوان کا حق دو ،مسکین اور مسافر کا بھی حق ادا کرویہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ کو دیکھنا چاہتے ہیں ایسے ہی لوگ نجات پانے والے ہیں ۔
ان لوگوں کو مال دے کر یا ان کی خدمت کر کے تم ان پر احسان نہیں کرہے ہو یہ تو تم پر ان کا حق ہے جسے تمہیں ادا کرنا ہی ہے نہ کرو گے تو اللہ اس کے بارے میں تم سے سوال کرے گا ۔یہ اسلام کا سوشیل سرویس کا نظریہ ہے جو فرضیت کے درجے میں ہے مگر مسلمانوں نے اسے بھلادیا ہے جس کے نتیجہ میں امت مسلمہ کئی طرح کے مسائل میں گھر چکی ہے ۔اس کا بدلہ خود اللہ کو دیکھنا ہے خدمت سے خدا ملتا ہے ۔
سوشیل ورک اور خدمت کو ایک نفلی نیکی سمجھا جاتا ہے کہ کہ کرو تو ثواب نہ کرو تو کوئی گناہ نہیں ۔بات ایسی نہیں ہے اس کا درجہ فرض کا ہے قرآن کہتا ہے ۔
لیس البر ان تولواقبل المشرق والمغرب ولٰکن البر من امن باللہ والیوم الاٰخر والملائکۃ والکتاب والنبیین اسی تسلسل میں بغیر کسی تفریق کہ آگے فرما یا
واٰتی المال علی حبہ جو مال سے محبت کے باوجود 
ذوی القربی رشتہ داروں کو 
والیتٰمی یتیموں کو 
والمساکین مسکینوں کو 
وابن السبیل مسافروں کو 
والسائلین مانگنے والوں کو 
وفی الرقاب گردن چھڑانے کیلئے 
پھر عبادات کے سلسلہ کو بیان کررہاہے 
۔۲۔
واقام الصلوۃ واٰتی الزکوۃ والموفون بعھدھم اذا عاھدوا (البقرہ :۱۷۷) 
انہی باتوں کوسورہ بلد میں بیان فرمایا ۔انسان سے سوال کرتا ہے
ایحسب ان لن یقدرعلیہ احد کیا یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کسی کا قابو نہیں ہے ؟
یقول اھلکت مالا لبدا ،انسان کہتا ہے کہ میں تو بہت ڈھیر سارا مال خرچ کرڈالا ۔
اپنے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے پھر فخرکے طور پر لوگوں کے سامنے کہتا پھرتا ہے 
فلااقتحم العقبۃ اس سے نہ ہوسکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا (خدمت خلق بہت مشکل کام ہے )
وماادرٰک ما العقبۃ کیا سمجھا کہ گھاٹی کیا ہے؟
فک رقبۃ ( وہ گھاٹی اور مشکل کام )کسی کی گردن کو آزاد کرانا 
او اطعٰم فی یوم ذی مسغبۃ یا بھوک والے دن کھانا کھلانا 
یتیما ذامقربۃ کسی رشتہ دار یتیم کو 
او مسکینا ذامتربۃ یا مٹی پلید ہوچکے کسی مسکین کو(جو غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہوا ہے )
نبی کریم ﷺ منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے ہی یہ تمام سوشیل خدمات انجام دیا کرتے تھے ۔غار حرا سے پہلی وحی لیکر آپ ﷺ جب اپنے گھر آئے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھ سے ا نزول وحی کے واقعہ کوبیان کیا اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے تو حضرت خدیجہ کے الفاظ تھے ۔
کلاواللہ ما یخزیک ابد ا ہر گز نہیں ! اللہ کی قسم اللہ آپ کو ہر گز رسوا نہیں کرے گا 
انک لتصل الرحم آ پ تو صلہ رحمی کرتے ہیں 
وتحمل الکل ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں 
وتکسب المعد وم محتاجوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں 
وتقری الضیف مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں 
و تعین علی نوائب الحق ۔ مصیبت ذدوں کی مدد فرماتے ہیں(بخاری :۱/۳ کتاب بدء الوحی ،حدیث :۳)
اسلام نے سماج سیوا اور خدمت خلق کو دین میں بہت اہم مقام بخشا ہے ،انسانوں کی خدمت کو حقوق العباد قرار دے کر اسے فرض کے درجہ میں رکھا ہے ۔بیمار کی عیادت اور اس کے علاج معاجے کا انتں ام کرنا ،یتیموں کی خبر گیری اور نادار بچوں کی تعلیم تربیت کا نظم کرنا ،لوگوں کی مشکلات میں ان کا ساتھ دینا ،بے روزگاروں کیلئے روزگار مہیا کرانا ۔سماجی خدمت کے لئے آج اس کی مستقل تعلیم بھی دی جارہی ہے اسے حاصل کرنا بھی ہمارے بچوں کیلئے ضروری ہے ،تاکہ جدید طرز پر وہ اپنی قوم کی خدمت کرسکیں ۔جیسے دیگرا قوام کے بچے بچیاں کررہے ہیں 
سماجی خدمت کے کورسز:
سوشیل ورک Social Workآج ایک پرفیشن بن چکا ہے ۔ہمارے ملک میں اس وقت سوشیل ورک کے کورسز 60سے زیادہ یونیورسیٹیوں میں پڑھائے جارہے ہیں ۔جہاں گریجویشن اور پوسٹ گریجوشن تک سوشیل ورک کی تعلیم اور عملی ٹریننگ دی جاتی ہے ۔
ایک طرف یہ ڈگری یافتہ سوشیل ورکرزہیں اور دوسری طرف مذہبی جذبہ کے تحت سرگرم رضاکار عیسائی مشنریوں اور سنگھ کی طرف سے سماج سیوا کا کام کرنے والے نوجوان اور ادارے ہیں ، سنگھ پریوار اور مشنری جذبے کے تحت ہر وقت خدمت انجام دینے کیلئے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں نوجواں آج ملک بھر میں خصوصا گاوءں دیہاتوں میں کام کررہے ہیں ۔
سوشیل ورک کے لئے پرفیشنل ٹریننگ زیادہ اہم نہیں ہے بلکہ ذہن میں اس طرح کی سوچ اور دل میں جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اگر انسان دوسرے انسانوں کی خدمت کیلئے تیار ہوجائے تو پھر اس کام کیلئے ضروری Skilsصلاحیت وقابلیت بہت جلد مہیا ہوجاتی ہے ۔
اگر ائمہ مساجد اپنی اپنی مسجد کے اطراف بسنے والے مسلمانوں کیلئے اپنے گاوءں اور محلے کی سطح پر NGO sبناکر سرکار میں رجسٹر کروائیں اور سوشیل ورک کا باقاعدہ نظام اپنی مسجد کی کمیٹی کے ماتحت انجام دیں تو مسلمانوں کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ہر سرکار کے پاس اپنے شہریوں کیلئے تعلیم کی صحت کی اور روزگار کی بہت سی اسکیمیں ہوتی ہیں انہیں اجتماعی طور پر لینے کی کوشش کی جائے تو اکثر کامیابی ملتی ہے ۔اس کیلئے صبر اور حکمت کے ساتھ لگے رہنا ضروری ہے ایک بار اگر اس کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے تو پھر لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے ۔
السعی منا والاتمام من اللہ
آل انڈیا امامس کونسل 

No comments:

Post a Comment