Monday, June 9, 2014

استقبال رمضان

۔۱۔
خطبہ جمعہ جولائی۲۰۱۴
آل انڈیا امامس کونسل 
استقبال رمضان
دورجدید نے انسان کی آسائش اور آسودگی کے لئے بہت سے مادی وسائل مہیا کردئے ہیں جسم کی آسودگی کا انتظام کیامگر روح کی آسودگی اور اس کے چین کیلئے کچھ نہیں کیا ۔انسان چیزوں کا مالک بن گیا لیکن اس کے ہاتھ سے خود اپنے نفس کا لگام چھوٹ گیا ،جس کی بنا پر اس کی خواہشات نے اس پر غلبہ پالیا ،اس کا ارادہ کمزور اور دل سخت ہوگیا ،اس کے اخلاق بدل گئے ،در حقیقت وہ اپنے آپ کو ہلاکت وبربادی کی راہوں پر گامزن کرکے خود اپنا دشمن بن گیا ۔
اللہ تعالی نفس انسانی کی تمام خصوصیات سے واقف ہے لہذا اس نے عبادات کا ایسا نظام مرتب کیا ہے جس سے انسانوں کو چین سکون میسر ہوتا ہے،عام طور پر مسلمان عبادات بہت اہتمام سے ادا کرتے ہیں مگر اس کا اثر ان کی زندگی میں نظر نہیں آتا کیونکہ اس سے مطلوب اثرات سے وہ واقف نہیں ہوتے مثلا وہ اول وقت میں نماز کی ادائیگی کیلئے اہتمام سے مسجد میں آتے ہیں ، مگر اس قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرتے ہیں جو واجب الاداء ہے۔لوگ باربار حج کرتے ہیں مگرقریبی رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ صلہ رحمی اورحسن سلوک نہیں کرتے ۔
عبادت،وضو ،نماز روزہ ،حج اور زکوۃ کو کہا جاتا ہے مگریہ عبادات ایک مسلمان کو معاشرتی درد مندی اورانسانی خدمت تک لیجانا چاہتی ہے عبادت ان تمام ظاہری وباطنی اقوال واعمال کا جامع نام ہے جنہیں اللہ تعالی پسند کرتا ہے جو زندگی کے مظاہر اور اس کی روح وحقیقت دونوں کو منظم و مزین کرتے ہیں ۔
آئیے ہم آمد رمضان سے پہلے روزہ اور رمضان کی حکمتوں پر ایک نظر ڈالیں تا کہ ہم روزوں کے ذریعہ وہ سب کچھ حاصل کرسکیں جو اللہ تعالی ہمیں روزوں کے ذریعہ دینا چاہتا ہے ۔
روزہ انسان کو اپنے آپ کو قابو میں رکھنے کی ٹریننگ دیتا ہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے ،صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے ،پینے ،جماع کرنے سے نیت کے ساتھ رکے رہنے کا نام روزہ ہے،روزہ کا مقصد نفس کو شہوتوں سے روکنا ہے مرغوبات ومالوفات سے چھڑانا ہے اور انسان کی شہوانی قوت کے اندر اعتدال اور توازن پیدا کرنا ہے نیز نفس انسانی کے اندر ان امور کو قبول کرلینے کی صلاحیت پیدا ہوجائے جو اسے پاک وصاف کردینے والے ہیں ۔
روزے میں بھوک اور پیاس ان فاقہ مستوں کی تکلیف کا احسا س کراتی ہے ان کا کیا حال ہے جو ہمیشہ بھوک اور پیاس کی جلتی ریت پر تپتے رہتے ہیں ۔روزہ انسان کو دوسرے انسانوں کی تکلیف دور کرنے کی مائل کرتا ہے اسی کئے حدیث پاک میں فرمایا ۔
۔۲۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس نے اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو( اللہ کی رضا اور ثواب حاصل کرنے کیلئے)افطار کرایا تو اس کیلئے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا اور اس کو روزہدار کے برابر ثواب دیا جائے گا ،بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے ،صحابہ نے دریافت کیا :یا رسول اللہ !ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان مہیا نہیں ہوتا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گاجو ایک کھجور پر یاپانی کے ایک گھونٹ پر یا دودھ کی تھوڑی سی لسی پر کسی کا روزہ افطار کرادے ۔
اس معمولی سے کام پر یہ عظیم اجروثواب مسلمان کے اندر دوسرے کو کھلانے کی عادت ڈالنے کیلئے ہے آدمی اپنا تھوڑا مال خرچ کرے اور سخاوت کا مزاج بنے ۔ 
ماکولات ومشروبات کی گذرگاہوں کے تنگ ہوجانے سے بندہ کی شیطانی گذرگاہیں تنگ ہوجاتی ہیں ۔
انسان کے ہر عضو اورہر جوڑ کے اندر سرکشی کا مادہ موجود ہے بھوک اور پیاس اسے ساکت کردیتی ہے اور اسے ایک لگام لگادیتی ہے رمضان کے بعد اگر آدمی کا نفس قابو میں نہ رہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ روزہ کا مقصود حاصل نہیں ہوا ۔ 
روزہ انسان کو عادت کی قید سے آزاد کرتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عادت چھوٹ نہیں سکتی ہم یہ عادت چھوڑ نہیں سکتے،مگر روزہ دن بھر انسان کو روکے رکھتا ہے اس کا مطلب ہے کہ آدمی ارادہ کرے تو کوئی بھی عادت چھوڑسکتا ہے ۔ 
روزہ اگر اپنے ارکان وآداب کے ساتھ رکھا جائے تووہ آدمی میں تقوی پیدا کرتا ہے 
کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون 
اور تقوی قلبی خوشی ومسرت کی بنیاد ہے تقوی سے خوف وغم دور ہوتا ہے،خوف و غم ہی قلبی اضطراب وپریشانی کی بنیاد ہے 
فمن اتقی واصلح فلا خوف علیھم ولاہم یحزنون
تقوی سے مشکل حالات میں چھٹکارے کی شکل نکل آتی ہے اور ایسی جگہ سے روزی ملتی ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا 
ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب 
جو مسلمان اللہ سے محبت کرتا ہے وہ پابندی سے روزہ رکھتا ہے اور ماہ رمضان کا انتظار کرتا ہے ۔تاکہ اپنے نفس کو گناہوں سے پوری طرح دھو سکے ،روزہ دل کے زنگ کو دور کرتا ہے۔گناہوں سے معافی والی حدیث میں ایک بات کہی گئی ایمانا واحتسابا یہ احتساب ہوگا تو زندگی میں روزہ کا اثر نظر آئے گا احتساب کہتے ہیں سوچ اور امید کو،اب حدیث کو پڑھیں ۔
من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (بخاری)
جو شخص ایمان کے ساتھ اور اجر کی کی امید سے رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردئے جائیں گے ۔
رمضان میں اگر مسلمان اللہ تعالی کیلئے اپنی خواہش چھوڑدینے کی وجہ سے اپنے اندر روحانی نشاط محسوس کرتا ہے تو اس کو برقرار رکھنے کیلئے 
۔۳۔
ہر مہینے میں تین روزہ رکھنے کی ترغیب دی تاکہ اللہ سے تمہارا تعلق باندھا رہے ۔
روزہ دار کیلئے روزے میں ایک انعام یہ ہے کہ اس کی افطار کے وقت کی دعا قبول کی جاتی ہے 
ان للصائم عند فطرہ دعوۃ لا ترد (ابن ماجہ) 
اللہ سے اس تعلق کو اور بڑھانے کیلئے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا حکم دیا،اعتکاف میں دن رات قیام رکوع وسجود کے نتیجہ میں قلب کو طمانینت اور جسم کو پاکیزگی ملتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں ۔جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ ﷺ کمر کس لیتے تھے ،شب بیداری فرماتے ،اور اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے ،
اعتکاف نہ رہبانیت ہے نہ ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنا ہے ،بلکہ وہ زندگی کے سفر میں ایک مختصر سا وقفہ ہے جس میں انسان گہری نظر ڈال کر یہ جائزہ لیتا ہے کہ وہ اس سفر میں کتنا راستہ طے کرچکا ہے اورکتنا باقی ہے اور یکسوئی کے ساتھ خلوت میں عبادت کرنے والا اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے کہ اللہ تعالی کے جناب میں اس سے کیاکیا کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں اور اس کے تدارک کی کیا صورت ہے ۔
یہاں تک کہ جب عید کا دن آتا ہے تو وہ اپنے رب سے اپنا انعام وصول کرنے کیلئے عید گاہ کا رخ کرتا ہے جہاں فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں ،وہ غریبوں سے ملتا ہے ان پر احسان کرتا ہے صدقہ فطر ادا کرتا ہے آج کے دن غریب سے غریب کے گھر بھی اچھا کھانا پکنا چاہئے آج کا میزبان اللہ ہے سب اس کے مہمان ہیں آج روزہ رکھنا گناہ ہے آج خوشی منانے کا دن ہے غلطی کرنے والوں کو معاف کرنے کا دن ہے معذرت کرنے والوں کا عذر قبول کرنے کا دن ہے اس طرح روح اپنی تازگی وتوانائی اور طہارت پر قائم ہوجاتی ہے 

No comments:

Post a Comment