Tuesday, June 10, 2014

تاریخ ہند

تاریخ ہند
ہندستان کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت اس بات کی سمجھ ہونی چاہئے کہ بیرونی طاقتوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیں اقتصادی اور سیاسی سطح پر کس طرح کا نقصان پہنچایا تھا ۔
جاگیرداروں و زمینداروں کے دور اقتدارکے دوران کیا فرق یا تبدیلی نظر آئی تھی ۔
آریس آریس اور اسکی ذیلی شاخوں کا اکثریتی غلبہ پر مبنی جو سیاسی پروجکٹ وفلسفہ ہے ۔جس کی عکاسی ونمائندگی ان کے سیاسی ونگ کے ذریعہ کی جاتی رہی ہے ۔دراصل اس کی بنیاد ہمارے ماضی کے کچھ واقعات ہیں جنہیں انہوں نے نہ صرف فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اس کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے ۔
فرقہ واریت پر مبنی تاریخ صرف تاریخ کا مسخ کیا جانا یا توڑنا مروڑنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ وہ عمل ہے جس میں تاریخ کے مرکزی پہلو کی فرقہ وارانہ بنیاد پر تشریح کی جاتی ہے یعنی تاریخ کے اصل وصحیح تناظر اور صداقت سے انکار کیا جاتا ہے بلکہ اس کے کچھ چنندہ حصوں کو ہی موضوع سخن بنایا جاتا ہے ۔اس طرح کی کوشش کی عکاسی ہمیں ملک کی کئی ریاستوں کی نصابی کتابوں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔
اس طرح جدید تاریخ ہند میں ہمارے مطالعہ ،تشریح یا تدریس میں دو بڑے اثرات ہمیں دکھائی دیتے ہیں ۔جو 200برس کے برطانوی نو آبادیاتی نظام پر محیط ہیں ۔
ان میں سے پہلا دور نوآبادیاتی ہسٹو گرافی پر مبنی ہے ۔جبکہ دوسرے اثرات وہ ہیں جن کا تعلق فرقہ وارانہ تشریح سے ہے ۔پہلے کا تعلق ہمارے اس ورثہ سے ہے جس کے تحت ہم اپنی نصابی کتابوں ’’برطانوی راج ‘‘اور برطانوی راج کے قیام جیسے الفاظ کا استعمال کرتے رہے ہیں ،اور ان ابواب کو اپنی نصابی کتابوں میں شامل کرنے سے بھی گریز کرتے رہے ہیں ،جن کا تعلق برطانوی حکومت کی مزاحمت کے دور سے ہے ۔
ہم 19 ویں صدی کے دوسرے نصف حصہ کے اس دور کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح اس دوران فرقہ پرستی کا یہ سارا معملہ ابھر کر منظر عام پر آیا اور کس طرح اس میں تبدیلیاں آتی رہیں اگرچہ اس دور سے قبل بھی 1875 میں بمبئی میں پارسیوں اور مسلمانوں کے درمیان اور ہندوءں اور عیسائیوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشدگی کا ماحول پیدا ہوتا رہا تھا لیکن اس میں یاد رکھنے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کی کشیدگی کی وجہ سے کبھی فسادات نہیں ہوئے تھے ۔
وہ 19 ویں صدی کا دوسرا نصف حصہ ہی تھا جس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی نے سیاسی شکل اختیار کی تھی ۔1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بعد ہی پہلی بار فرقہ واریت کا کارڈ کھیلا گیا تھا ۔جب ہم تاریخی اعتبار سے مذہب کی تبدیلی کے ایشو پر نظر دوڑاتے ہیں تو اس میں سب سے اہم جو چیز ہمیں یاد رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلم آبادی کی اکثریت ہمیں ان ریاستوں میں نظر نہیں آتی جہاں کے فرمانروا یا حکمراں مسلماں تھے بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے کیا پتہ چلتا ہے ؟
کیرلا کے مالابار ساحلی علاقہ کی مثال کو ہی لے لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کئے جانے کیواقعات ٹیپو سلطان کے حملہ کے دوران نہیں ہوئے ۔بلکہ تبدیلیء مذہب کے واقعات سب سے زیادہ تعداد میں1843 تا 1890کے دوران ہی اس وقت ہیش آئے تھے جب 1843کے دوران اس علاقہ سے غلامی کا خاتمہ ہوا تھا اور جس کے نتیجہ میں ان دبی کچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ،جنہیں اونچی اور اعلی ذاتات کے ہندؤں نے غلام بنا رکھا تھا ،غلط یا صحیح یہ سوچ کر اسلام قبول کیا تھا کہ انہیں براری کا درجہ اور انصاف ملے گا ٹیپو سلطان اور شیواجی جیسے حکمرانوں کے دور حکومت کے بارے میں جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو یہاں بھی بد قسمتی سے ہمیں مذہبی تعصب ہی نظر آتا ہے
کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ تیپو سلطان کا ہی دور حکومت تھا جس کے دوران ایک کٹر ہندو مراٹھا سردار نے میسور پر کئی بار حملہ کیا تھا اور اپنے ایک حملہ کے دوران اس نے شرنگری مٹھ کو تباہ وبرباد کردیا تھا ۔اس مٹھ کی تعمیر نو اور تعمیر سے قبل بھومی پوجا کی ذمہ داری نبھانے والا کوئی اور نہیں خود ٹیپو سلطان ہی تھا ۔یہاں ہمیں خود سے سوال کرنا چاہئے کہ ای ’اچھے اور سیکولر ہندو سردار نے کیوں ایک مٹھ کو تاراج کردیا تھا اور کیوں ایک کٹر مسلمان کہے جانے والے حکمران نے اس کی دوبارہ تعمیر کروائی تھی ۔
تاریخ ہند
ہندستان کی تاریخ کے مطالعہ کے وقت اس بات کی سمجھ ہونی چاہئے کہ بیرونی طاقتوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیں اقتصادی اور سیاسی سطح پر کس طرح کا نقصان پہنچایا تھا ۔
جاگیرداروں و زمینداروں کے دور اقتدارکے دوران کیا فرق یا تبدیلی نظر آئی تھی ۔
آریس آریس اور اسکی ذیلی شاخوں کا اکثریتی غلبہ پر مبنی جو سیاسی پروجکٹ وفلسفہ ہے ۔جس کی عکاسی ونمائندگی ان کے سیاسی ونگ کے ذریعہ کی جاتی رہی ہے ۔دراصل اس کی بنیاد ہمارے ماضی کے کچھ واقعات ہیں جنہیں انہوں نے نہ صرف فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ اس کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے ۔
فرقہ واریت پر مبنی تاریخ صرف تاریخ کا مسخ کیا جانا یا توڑنا مروڑنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ وہ عمل ہے جس میں تاریخ کے مرکزی پہلو کی فرقہ وارانہ بنیاد پر تشریح کی جاتی ہے یعنی تاریخ کے اصل وصحیح تناظر اور صداقت سے انکار کیا جاتا ہے بلکہ اس کے کچھ چنندہ حصوں کو ہی موضوع سخن بنایا جاتا ہے ۔اس طرح کی کوشش کی عکاسی ہمیں ملک کی کئی ریاستوں کی نصابی کتابوں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔
اس طرح جدید تاریخ ہند میں ہمارے مطالعہ ،تشریح یا تدریس میں دو بڑے اثرات ہمیں دکھائی دیتے ہیں ۔جو 200برس کے برطانوی نو آبادیاتی نظام پر محیط ہیں ۔
ان میں سے پہلا دور نوآبادیاتی ہسٹو گرافی پر مبنی ہے ۔جبکہ دوسرے اثرات وہ ہیں جن کا تعلق فرقہ وارانہ تشریح سے ہے ۔پہلے کا تعلق ہمارے اس ورثہ سے ہے جس کے تحت ہم اپنی نصابی کتابوں ’’برطانوی راج ‘‘اور برطانوی راج کے قیام جیسے الفاظ کا استعمال کرتے رہے ہیں ،اور ان ابواب کو اپنی نصابی کتابوں میں شامل کرنے سے بھی گریز کرتے رہے ہیں ،جن کا تعلق برطانوی حکومت کی مزاحمت کے دور سے ہے ۔
ہم 19 ویں صدی کے دوسرے نصف حصہ کے اس دور کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح اس دوران فرقہ پرستی کا یہ سارا معملہ ابھر کر منظر عام پر آیا اور کس طرح اس میں تبدیلیاں آتی رہیں اگرچہ اس دور سے قبل بھی 1875 میں بمبئی میں پارسیوں اور مسلمانوں کے درمیان اور ہندوءں اور عیسائیوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشدگی کا ماحول پیدا ہوتا رہا تھا لیکن اس میں یاد رکھنے والی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کی کشیدگی کی وجہ سے کبھی فسادات نہیں ہوئے تھے ۔
وہ 19 ویں صدی کا دوسرا نصف حصہ ہی تھا جس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی نے سیاسی شکل اختیار کی تھی ۔1857 کی پہلی جنگ آزادی کے بعد ہی پہلی بار فرقہ واریت کا کارڈ کھیلا گیا تھا ۔جب ہم تاریخی اعتبار سے مذہب کی تبدیلی کے ایشو پر نظر دوڑاتے ہیں تو اس میں سب سے اہم جو چیز ہمیں یاد رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ مسلم آبادی کی اکثریت ہمیں ان ریاستوں میں نظر نہیں آتی جہاں کے فرمانروا یا حکمراں مسلماں تھے بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں اس سے کیا پتہ چلتا ہے ؟
کیرلا کے مالابار ساحلی علاقہ کی مثال کو ہی لے لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر اسلام قبول کئے جانے کیواقعات ٹیپو سلطان کے حملہ کے دوران نہیں ہوئے ۔بلکہ تبدیلیء مذہب کے واقعات سب سے زیادہ تعداد میں1843 تا 1890کے دوران ہی اس وقت ہیش آئے تھے جب 1843کے دوران اس علاقہ سے غلامی کا خاتمہ ہوا تھا اور جس کے نتیجہ میں ان دبی کچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ،جنہیں اونچی اور اعلی ذاتات کے ہندؤں نے غلام بنا رکھا تھا ،غلط یا صحیح یہ سوچ کر اسلام قبول کیا تھا کہ انہیں براری کا درجہ اور انصاف ملے گا ٹیپو سلطان اور شیواجی جیسے حکمرانوں کے دور حکومت کے بارے میں جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو یہاں بھی بد قسمتی سے ہمیں مذہبی تعصب ہی نظر آتا ہے
کیا ہم جانتے ہیں کہ وہ تیپو سلطان کا ہی دور حکومت تھا جس کے دوران ایک کٹر ہندو مراٹھا سردار نے میسور پر کئی بار حملہ کیا تھا اور اپنے ایک حملہ کے دوران اس نے شرنگری مٹھ کو تباہ وبرباد کردیا تھا ۔اس مٹھ کی تعمیر نو اور تعمیر سے قبل بھومی پوجا کی ذمہ داری نبھانے والا کوئی اور نہیں خود ٹیپو سلطان ہی تھا ۔یہاں ہمیں خود سے سوال کرنا چاہئے کہ ای ’اچھے اور سیکولر ہندو سردار نے کیوں ایک مٹھ کو تاراج کردیا تھا اور کیوں ایک کٹر مسلمان کہے جانے والے حکمران نے اس کی دوبارہ تعمیر کروائی تھی ۔ 

1 comment: